Al-Risala · November 2015 · page 12

علم توحید

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۲

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ یعنی اس پوری کائنات میں جہاں بھی کوئی روشنی ہے وہ خدا کی ذات سے ہے۔ خدا اگر روشنی نہ دے تو کہیں اور سے کسی کو بھی روشنی ملنے والی نہیں۔ سورج اگر نہ ہو تو زمین پر ہر طرف اندھیرا چھا جائے۔ اسی طرح اگر ستارے نہ ہوں تو ساری کائنات گہری تاریکی میں ڈوب جائے۔ خدا نے ساری کائنات میں بے شمار تعداد میں انتہائی روشن قسم کے متحرک اجسام پھیلا دئے ہیں جو کائنات کے ہر حصہ کو مسلسل طور پر روشنی کا تحفہ دے رہے ہیں۔ اگر یہ کائناتی نظام نہ ہو تو دنیا اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تاریکی کا ایک بھیانک غار بن جائے گی۔

یہ مادی روشنی کا معاملہ ہے۔ یہی معاملہ فکری اور روحانی روشنی کا ہے۔ اس دنیا میں بسنے والے ہر انسان کو ضرورت ہے کہ اس کے ذہن کو وہ رہنمائی ملے جس کی روشنی میں وہ صحیح طور پر سوچے اور اس کو وہ روحانی خوراک ملے جو اس کے سینہ میں حکمت حیات کا باغ اگادے۔ اس فکری اور روحانی روشنی کا سرچشمہ بھی صرف اور صرف خداوند ذوالجلال ہے۔ یہ روحانی روشنی بھی ایک خدا کے سوا کہیں اور سے انسان کو ملنے والی نہیں۔

علم توحید

توحید کا عقیدہ اسلام میں اساسی عقیدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ توحید کے موضوع پر عربی اور دوسری زبانوں میں بہت زیادہ کتابیں لکھی گئی ہیں۔ آپ ان کتابوں کو پڑھیں تو ان میں آپ کو غرض وغایت کے اعتبار سے، اس طرح کے الفاظ لکھے ہوئے ملیں گے: علم توحید سب سے افضل علم ہے۔ معاذ بن جبل کی مشہور روایت میں توحید کے عقیدے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولیت دی تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ توحید کا علم سب سے افضل علم ہے، وغیرہ۔ علم توحید بلا شبہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ اہمیت اس بنا پر نہیں ہے کہ وہ ایک افضل علم ہے۔ علمی اعتبار سے اس کی اہمیت یہ ہے کہ وہ ایک اساسی علم ہے۔ اساسی علم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ توحید ہی وہ بنیاد ہے جس پر بقیہ اسلامی اعمال کی عمارت

‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues

Printed page