فکری انقلاب
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۳
کھڑی ہوتی ہے۔ توحید کی اساس نہیں تو بقیہ اعمال بھی نہیں۔
فکری انقلاب
توحید محض ایک روایتی عقیدے کا نام نہیں۔ توحید در اصل عظیم ترین فکری انقلاب ہے جو عظیم ترین فکری دریافت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ توحید یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اپنے خالق اور مالک کی حیثیت سے دریافت کرے۔ اللہ جو پوری کائنات کا خالق اور مالک ہے، اس کی دریافت جب کسی انسان کو ہوتی ہے تو اس کے ذہن میں ایک فکری بھونچال پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر معرفت کا سمندر ایک طوفان بن کر داخل ہو جاتا ہے۔ اس کی سوچ اور اس کے جذبات میں ایک کامل نوعیت کی تبدیلی آ جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اسی نئے انسان کا نام موحد انسان ہے۔ اسلامی دعوت کے کام کا آغاز یہ ہے کہ انسان کے اندر عقیدہ توحید کی بنیاد پر ایک فکری انقلاب برپا کیا جائے۔ اس فکری انقلاب کے بعد ہی ایک انسان موحد انسان بنتا ہے، اور جب اس انقلابی فکر کے حامل بہت سے افراد پیدا ہو جائیں تو اُن کے مجموعے سے وہ معاشرہ پیدا ہوتا ہے جس کو اسلامی معاشرہ کہا جاتا ہے۔
توحید کا مفہوم
توحید کیا ہے۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ خدا کو ایک مانا جائے ۔ یہ یقین کیا جائے کہ تمام طاقتیں اور ہر قسم کے اختیارات صرف ایک خدا کو حاصل ہیں۔ وہی تنہا عبادت کا مستحق ہے۔ عبادت کی قسم کا کوئی بھی فعل خدا کے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں۔ خدا ہی انسان کی مرادیں اور حاجتیں پوری کرتا ہے۔ خدا ہی کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔ برتری صرف ایک خدا کا حق ہے، کسی اور کو اس دنیا میں حقیقی برتری حاصل نہیں۔ ایسا ہر عقیدہ باطل ہے جس میں ان تمام پہلوؤں میں خدا کے سوا کسی اور کو شریک کیا جائے۔
قرآن میں توحید کے عقیدہ کو ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے — اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues