خوف و محبت کا مرکز
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۵
خوف و محبت کا مرکز
توحید کا مطلب ہے ایک اللہ پر اعتماد کرنا اور اپنے سارے دل اور اپنے سارے دماغ کے ساتھ اس سے وابستہ ہو جانا، اُسی کو اپنے خوف و محبت کے جذبات کا مرکز بنانا۔ انسان کے سوچنے اور محسوس کرنے کی جو صلاحیتیں دی گئی ہیں، وہ اپنا کوئی نہ کوئی تو جہاتی مرکز چاہتی ہیں۔ آدمی فطری طور پر چاہتا ہے کہ کوئی ہو جس کی طرف وہ لپکے، جس سے وہ اُمید رکھے، جس کے اوپر وہ بھروسہ کرے، جس کی یاد کو وہ سرمایہ حیات بنائے۔
آدمی اپنی ہستی کا ایک مرکز بنائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ خواہ یہ مرکز دولت واقتدار ہو یا قبریں اور دیوی دیوتا، یا کوئی دوسری چیز۔ یہ مرکز اگر اللہ کے سوا کوئی اور ہو تو یہ شرک ہے۔ اور اگر انسان صرف اللہ رب العالمین کو اپنی ہستی کا مرکز بنائے تو اسی کو توحید کہتے ہیں۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ آدمی اپنی تو جہات کو صرف اللہ کی طرف موڑ دے۔ اس کے سوا کوئی چیز اس کے لئے مرکز توجہ کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔
آدمی جب خدا کو اپنا معبود بناتا ہے تو وہ ایک ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے جو حقیقی طور پر موجود ہے۔ اس کے برعکس جب کوئی آدمی غیر خدا کو اپنا معبود بنائے تو اس نے ایک ایسی چیز کو اپنا معبود بنایا جس کا واقعات کی دنیا میں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں، خواہ بظاہر اس نے اس مفروضہ معبود کی ایک صورت بنا کر اپنے سامنے رکھ لی ہو۔ جو آدمی خدا کو اپنا معبود بنائے اس نے طاقت کے حقیقی سر چشمہ کو پالیا۔
اس کے برعکس جو آدمی غیر خدا کو اپنا معبود بناتا ہے وہ ایک ایسے توہماتی مفروضہ سے اپنا رشتہ جوڑتا ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ خدا کی عبادت گزار ابدی سعادت سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس غیر خدا کے عبادت گزار کے لئے ابدی محرومی کے سوا کوئی اور چیز نہیں۔ پیغمبروں کا مشن پچھلے زمانوں میں خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے وہ سب اسی لئے آئے کہ وہ انسان کو شرک
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues