دور کاوٹ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۶
سے ڈرائیں اور انھیں توحید کی تعلیم دیں، تاکہ انسان اس کے مطابق، اپنی زندگی کی اصلاح کرے اور دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کر سکے۔ مگر انسانیت کی لمبی تاریخ میں تقریباً ہر پیغمبر کے ساتھ ایسا ہوا کہ لوگوں کی زیادہ تعداد نے ان کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ خاص طور پر سماج کے بڑے لوگ کبھی پیغمبر کو ماننے یا ان کا ساتھ دینے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس تاریخی واقعہ کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے (یس: 30)۔ خدا کے پیغمبروں کو نظر انداز کرنے کا یہ معاملہ اس حد تک بڑھا کہ پچھلے دور میں آنے والے پیغمبروں کو انسانی تاریخ کے ریکارڈ سے حذف کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ماضی کی مدون تاریخ میں بادشاہوں کی داستانیں تو پڑھتے ہیں مگر پیغمبروں کا تذکرہ مدون تاریخ میں سرے سے موجود ہی نہیں۔
اس معاملہ میں صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا واحد استثناء ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد حاصل ہوئی۔ چنانچہ آپ نے پہلی بار رد شرک اور اثبات توحید کی تحریک کو ایک ایسی زندہ تحریک بنایا جس نے اس تحریک کو فکری مرحلہ سے اٹھا کر عملی انقلاب کے مرحلہ تک پہنچادیا اور اس کی ایک مستقل تاریخ بنادی۔
دور کاوٹ
رد شرک اور اثبات توحید کی یہ تحریک قدیم زمانہ میں کیوں عملی انقلاب کے درجہ تک نہ پہنچ سکی۔ اس کا سبب خاص طور پر دو تھا: ایک ، بادشاہت کا نظام ، دوسرے، توہماتی افکار کا غلبہ۔ یہی دو بنیادی اسباب تھے جو پیغمبروں کے مشن کے خلاف ایک مستقل رکاوٹ بنے رہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے دور میں مشرکانہ بادشاہت کا نظام قائم تھا۔ موجودہ زمانہ میں جمہوری سیاست کا اصول رائج ہے۔ سیاسی لیڈر عوامی ووٹوں کے ذریعہ اپنے لئے حکمرانی کا حق حاصل کرتے ہیں۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ اس کے برعکس یہ کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو یہ یقین دلا کر حکومت کرتے تھے کہ ہم خدا کے نمائندے ہیں۔ ہم خدا کی اولاد ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues