Al-Risala · November 2015 · page 20

توحید اور شرک

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۰

اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب سے دوچار ہوں گے تو وہ سمجھ لیتے کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا کیا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی کو اللہ کا ند ٹھہرایا جائے۔ ند کے معنی مثل (equal) کے ہیں۔ اللہ کے سوا کسی اور کو اس کا ند ٹھہرانا شرک ہے، خواہ وہ کلی معنی میں ہو یا جزئی معنی میں۔

اللہ کا ند ٹھہرانا کن پہلوؤں سے ہوتا ہے، مذکورہ آیت میں اس کے دو پہلو بیان کئے گئے ہیں— محبت، اور قوت۔ قرآن کی ایک اور آیت کے مطابق، اس کا تیسرا پہلو خشیت (التوبة:18) ہے۔ بنیادی طور پر یہی تین چیزیں ہیں جو شرک کی پہچان ہیں۔ مذکورہ تینوں معاملے میں جس نے اللہ کے سوا کسی اور کو شریک کیا، اس نے شرک کا ارتکاب کیا۔ حتی کہ اگر کسی شخص نے خود اپنے آپ کو اس قسم کا درجہ دیا تو اس کا کیس بھی شرک کا کیس بن جائے گا (الجاثية:23)۔

اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے— توحید کا مطلب ہے ہر اعتبار سے، صرف ایک اللہ کو اپنا واحد کنسِرن (sole concern) بنانا، اور شرک کا مطلب ہے— جزئی یا کلی طور پر کسی غیر اللہ کو اس کنسِرن میں شریک کرنا۔

جب کوئی شخص اللہ کو اس حیثیت سے دریافت کرے کہ یہ اللہ ہے جس نے اس عدم سے وجود بخشا، جس نے اس کو اعلی درجے کی شخصیت عطا فرمائی، جس نے اس کو زمین جیسے نادر سیارے پر آباد کیا، جس نے اُس کے لیے لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام کیا، وغیرہ۔ اس طرح کا احساس آدمی کے اندر اللہ کے ساتھ بے پناہ تعلق پیدا کرتا ہے، وہ اللہ کو اپنا سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ یہی اللہ کے ساتھ شدید محبت کی بنیاد ہے۔

پھر جب وہ اللہ کی اس حیثیت کو دریافت کرتا ہے کہ یہ تمام چیزیں اس کا یک طرفہ عطیہ ہیں، کسی بھی وقت اللہ اس کو چھین سکتا ہے۔ پھر یہ کہ ہر عطیہ کے ساتھ جواب دہی (accountability) جڑی ہوئی ہے۔ یہ احساس اس کو مزید اس اندیشے میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اگر میں نے ان عطیات الہی کا

‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues

Printed page