Al-Risala · November 2015 · page 21

اہلِ توحید اور اہلِ شرک

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۱

حق ادا نہ کیا تو اللہ کے یہاں میری سخت پکڑ ہوگی۔ یہ احساسات آدمی کے اندر وہ کیفیت پیدا کر دیتے ہیں جس کو قرآن میں خوف شدید (التوبۃ: 18) کہا گیا ہے۔

اسی کے ساتھ آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ اس دنیا میں سارا اختیار صرف ایک اللہ کو حاصل ہے، اللہ کے سوا کسی اور کو جزئی درجے میں بھی کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اللہ ہی دینے والا اور اللہ ہی محروم کرنے والا ہے۔ یہ احساس اُس کو اپنے عجزِ کامل کی یاد دلاتا ہے۔ وہ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں پاتا کہ وہ اللہ کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرینڈر کر دے۔

اہلِ توحید اور اہلِ شرک

آدمی جب خدائے واحد پر سچا یقین کرتا ہے تو نفسیاتی سطح پر خدا سے اس کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد روحانی تاروں پر اس کی پوری ہستی جگمگا اٹھتی ہے۔ وہ اپنی یادوں میں خدا کو پانے لگتا ہے۔ وہ اپنے آنسوؤں میں خدا کی جھلک دیکھنے لگتا ہے۔ اس کی سوچ اور جذبات میں خدا اس طرح بس جاتا ہے جیسے کہ وہ خدا کے پڑوس میں پہنچ گیا ہو، جیسے کہ وہ خدا کے رحمت بھرے سایہ میں زندگی گزارنے لگا ہو۔

قرآن میں شرک کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے (لقمان: 13)۔ ظلم کا مطلب ہے کسی چیز کو غیر جگہ پر رکھ دینا (وضع الشئی فی غیر موضعه)۔ یعنی شرک (خدا کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا) اس کائنات میں سراسر اجنبی ہے۔ اس دنیا میں شرک کا عقیدہ رکھنے یا مشرکانہ فعل کرنے کے لئے کائنات میں کوئی جگہ نہیں۔

اس دنیا کا خالق ایک ہی خدا ہے۔ وہی اس کا مالک ہے۔ وہی اس کو سنبھالنے والا ہے۔ اسی کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کے سوا کسی اور کو خدا مانے یا کسی اور کو خدا کی خدائی میں شریک کرے اس نے ایک خود ساختہ مفروضہ کو واقعی حقیقت کا درجہ دے دیا۔ اس نے ایک ایسی چیز کو موجود فرض کیا جس کا اس دنیا میں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔ مشرکانہ طرز فکر تمام برائیوں میں سب سے بڑی برائی ہے۔ جس آدمی کا ذہن مشرکانہ طرز پر

‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues

Printed page