شرک کی بے ثباتی
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۴
تکمیل کر رہے ہیں۔ وہ اس نقشہ پر ہیں جس نقشہ پر انسان کو ہونا چاہئے۔ اہل توحید خدا کے مطلوب انسان ہیں۔ وہ دنیا میں دنیا کے مالک کی مرضی کو پورا کر رہے ہیں۔
شرک اور اہل شرک کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ شرک خدا کی دنیا میں ایک اجنبی تصور ہے۔ اہل توحید اگر اس دنیا میں مطلوب لوگ (wanted people) ہیں تو اہل شرک اس کے برعکس غیر مطلوب لوگ (unwanted people)۔ شرک کے عقیدہ کو اس دنیا میں اس کے مالک کی سند حاصل نہیں۔ شرک کی روش اس دنیا میں ایک ایسی روش ہے جس کی اجازت دنیا کے مالک نے دنیا میں بسنے والوں کو نہیں دی۔
گول خانہ میں کوئی چو کور چیز رکھی جائے تو وہ اس کے اندر فٹ نہیں بیٹھے گی۔ جب کہ گول خانہ میں گول چیز بالکل فٹ بیٹھ جاتی ہے۔ یہی معاملہ توحید اور شرک کا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے صرف توحید کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اس لئے توحید کا تصور یا موحدانہ زندگی اس کی فطرت کے عین مطابق ہے جب کہ شرک کا عقیدہ یا مشر کا نہ زندگی انسانی فطرت کے مطابق نہیں۔ مشرک انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ غیر خدائی چیزیں اس کی تو جہات کا مرکز بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس لئے پیش آنے والے مختلف حالات میں اس کا رویہ بھی انھیں غیر خدائی ہستیوں کی نسبت سے متعین ہوتا ہے۔ وہ اپنی کامیابی میں بھی انھیں کی طرف دوڑتا ہے اور ناکامی میں بھی وہ انھیں کی پناہ تلاش کرنا چاہتا ہے۔
اس کی مفروضہ غیر خدائی ہستیاں ہی ہر صورت حال میں اس کے دل و دماغ پر چھائی رہتی ہیں۔ موحد انسان اگر اپنے تجربات سے توحید کی غذا پاتا رہتا ہے تو مشرک انسان کے لئے اس کے تجربات مشر کا نہ غذا کے حصول کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
شرک کی بے ثباتی
شرک کیا ہے۔ شرک یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب بھی کوئی انسان ، اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنا تا ہے، تو وہ اپنے لیے نہایت
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues