اہلِ توحید اور اہلِ شرک
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۳
اور اس کے اندیشے اللہ کے ساتھ اس طرح وابستہ ہو جائیں کہ وہ اپنے روز و شب کے لمحات میں اس کو بے تابانہ پکارنے لگے۔
اسی دریافت کا نام معرفت (realization) ہے۔ اس دریافت سے جس کے اندر وہ شخصیت بنے جب کہ ایک اللہ ہی اس کے لیے سب کچھ بن جائے، وہ اُسی کی یاد میں جئے اور یہی سوچ اس کی غالب سوچ بن جائے، ایسا انسان شریعت کی اصطلاح میں موحد ہے۔ اس کے برعکس، اللہ جس کا واحد کنسرن نہ ہو، بلکہ اس کے ساتھ وہ دوسری چیزوں کو بھی اپنا کنسرن بنائے ہوئے ہو، ایسا انسان شریعت کی اصطلاح میں شرک میں مبتلا ہے۔ موحد کی شخصیت ائنگریٹڈ یٹیڈ پرسنالٹی(split (integrated personality) ہوتی ہے، اور مشرک کی شخصیت اسپلٹ پرسنلٹی (split personality)۔ شریعت کے مطابق، اللہ انسان کی اصل غایت ہے، اور دوسری چیزیں صرف اس کی ضرورت۔ توحید اور شرک دونوں کا تعلق حقیقت سے ہے، نہ کہ صرف مظاہر سے۔ توحید اور شرک کا فرق قرآن کے مطابق، شرک کا عقیدہ تمام انسانی برائیوں کی جڑ ہے۔ اس کے مقابلہ میں توحید کا عقیدہ تمام انسانی خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔ قرآن میں واضح الفاظ میں یہ اعلان کیا گیا ہے ــــ بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اُس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ لیکن اس کے علاوہ جو کچھ ہے اس کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔ اور جس نے کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا طوفان باندھا۔ (النساء: 48)
توحید کا مطلب خالق کو پالینا ہے اور شرک کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مخلوقات میں اٹک کر رہ جائے ۔ توحید حقیقت کی سطح پر جینے کا نام ہے اور شرک کا مطلب توہما ت کی سطح پر جینا۔ توحید اپنی فطرت کی دریافت کا نتیجہ ہے اور شرک اپنی فطرت سے بے خبری کا نتیجہ۔ اہل توحید ہی اس دنیا کے مطلوب انسان کی حیثیت رکھتے ہیں کیوں کہ یہی لوگ ہیں جو خالق کی منشا کے مطابق ہیں۔ دنیا کے بنانے والے نے اس کو جس منصوبے کے تحت بنایا ہے، اہل توحید اس منصوبہ الہی کی
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues