Al-Risala · November 2015 · page 30

The human nature was left unaddressed.

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۰

خدا کی طرف سے ایک طرفہ عطیہ کے طور پر ملا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کی فطرت چاہتی ہے کہ وہ ان تمام عطیات (blessings) کے لیے ان کے مُعطی (giver) کا بھر پور اعتراف کرے۔ ان عطیات میں سے ایک قسم اُن عطیات کی ہے جو براہِ راست طور پر خدا کی طرف سے انسان کو مل رہے ہیں۔ مثلاً ہوا اور پانی اور روشنی، وغیرہ۔ اور دوسری چیزیں وہ ہیں جو بالواسطہ طور پر خدا کا عطیہ ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو انسان نے عالمِ فطرت میں دریافت کرکے خدا کی دی ہوئی عقل کے ذریعے اُن کو مختلف قسم کی مصنوعات میں تبدیل کیا ہے۔ مثلاً تمام قسم کے کنزیومر گُڈس (consumer goods)_ یہ تمام عطیات تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے سارے دل اور سارے دماغ کے ساتھ اُن کا اعتراف کرے۔ لیکن خود ساختہ فلسفوں کے تحت، انسان نے یہ کیا کہ اُس نے عطیات کو لیا، اور اُن کے مُعطی (giver) کو حذف کر دیا۔ یہ ایک بھیانک غلطی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کی فطرت ایڈریس ہونے سے رہ گئی:

The human nature was left unaddressed.

کسی انسان کے لیے ایک داخلی تضاد کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام عورت اور مرد اسی داخلی تضاد میں جی رہے ہیں۔ موجودہ زمانے کا وہ مسئلہ جس کو ٹینشن اور اسٹریس کہا جاتا ہے، وہ براہِ راست طور پر اسی داخلی تضاد کا نتیجہ ہے۔

اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ألا بذكر الله تطمئن القلوب (الرعد : 28) یعنی اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے: Peace of mind can be achieved only through the remembrance of God (13:28)

شرک خفی

اور جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کڑھنے لگتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues

Printed page