Al-Risala · November 2015 · page 31

شرک خفی

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۱

رکھتے۔ اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکا یک خوش ہوجاتے ہیں‘ (الزمر: 45) مفسر آلوسی نے اس آیت کی تفسیر میں اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان کیا ہے۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی کسی مصیبت میں ایک مرے ہوئے بزرگ کو پکار رہا ہے۔ انھوں نے کہا، اے شخص! خدا کو پکار۔ وہ خود فرماتا ہے: ﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾ (البقرۃ: 186) ان کی یہ بات سن کر آدمی سخت غصہ میں آگیا۔ بعد کو لوگوں نے انھیں بتایا کہ وہ کہتا ہے کہ ’’آلوسی اولیاء کے منکر ہیں‘‘۔ کچھ لوگوں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ کی نسبت سے ولی جلد سن لیتے ہیں (تفسیر الآلوسی، 12/266)۔

یہ ذہنیت کبھی کھلی کھلی غیر اللہ پر اعتماد کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جس کو شرک جلی کہا جاتا ہے۔ کبھی یہ ذہنیت شرک خفی کی صورت میں ہوتی ہے جس کو آج کل کی زبان میں شخصیت پرستی کہا جا سکتا ہے۔

آپ کثرت سے ایسے مذہبی حلقے پائیں گے جہاں بظاہر ’’اللہ اللہ‘‘ کا ورد ہوتا ہے اور قرآن پڑھا پڑھایا جاتا ہے، لیکن اگر وہاں کی مجلسوں میں خدا کی باتوں کا چرچا کیجیے تو لوگوں کو کوئی خاص دل چسپی نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس اپنی پسندیدہ شخصیتوں کے چرچے رات دن ہوتے رہتے ہیں اور اس سے ان کی دل چسپی کبھی ختم نہیں ہوتی۔

اکثر حالات میں شرک خفی، شرک جلی سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بظاہر برانہ دکھائی دینے کی وجہ سے اکثر لوگ اس میں مبتلا رہتے ہیں۔ حتی کہ وہ لوگ بھی جو شرک جلی کے خلاف لسانی اور قلمی جہاد ہی کو اپنا مشغلہ بنائے ہوئے ہیں۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اہل ایمان سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں (البقرۃ: 165)۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے کہ ہدایت یافتہ وہ ہے جو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے (التوبۃ: 18)۔ اس سے معلوم ہوا کہ توحید یہ ہے کہ شدید محبت اور شدید خوف کا تعلق صرف ایک اللہ سے ہو جائے ۔ اس کے مقابلہ میں شرک یہ ہے کہ آدمی اپنی شدید محبت اور اپنے شدید خوف

‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues

Printed page