Al-Risala · November 2015 · page 36

مخالفین مذہب کا استدلال

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۶

”نیوٹن نے دکھا دیا ہے کہ کوئی خدا نہیں ہے جو سیاروں کی گردش پر حکومت کرتا ہو۔ لاپلاس نے اپنے مشہور نظریے سے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ فلکی نظام کو خدائی مفروضہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ڈارون اور پاسچر نے یہی کام حیاتیات کے میدان میں کیا ہے اور موجودہ صدی میں علم النفس کی ترقی اور تاریخی معلومات کے اضافے نے خدا کو اس مفروضہ مقام سے ہٹا دیا ہے کہ وہ انسانی زندگی اور تاریخ کو کنٹرول کرنے والا ہے۔ “ (Religion without Revelation, N. Y. 1958. p. 58)

طبعیاتی دنیا میں اس انقلاب کا ہیرو نیوٹن ہے جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کائنات کچھ نا قابل تغیر اصولوں میں بندھی ہوئی ہے۔ کچھ قوانین ہیں جن کے تحت تمام اجرام سماوی حرکت کر رہے ہیں۔ بعد کو دوسرے بے شمار لوگوں نے اس تحقیق کو آگے بڑھایا۔ یہاں تک کہ زمین سے لے کر آسمان تک سارے واقعات ایک اٹل نظام کے تحت ظاہر ہوتے ہوئے نظر آئے جس کو قانون فطرت (law of nature) کا نام دیا گیا۔ اس دریافت کے بعد قدرتی طور پر یہ تصور ختم ہو جاتا ہے کہ کائنات کے پیچھے کوئی فعال اور قادر خدا ہے جو اس کو چلا رہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ گنجائش اگر ہو سکتی ہے تو ایسے خدا کی جس نے ابتداء کائنات کو حرکت دی ہو۔ چنانچہ شروع میں لوگ محرک اول کے طور پر خدا کو مانتے رہے۔ والٹیئر نے کہا کہ خدا نے اس کائنات کو بالکل اسی طرح بنایا ہے جس طرح ایک گھڑی ساز گھڑی کے پرزے جمع کر کے انھیں ایک خاص شکل میں ترتیب دے دیتا ہے اور اس کے بعد گھڑی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ اس کے بعد ہیوم نے اس ”بے جان اور بے کار خدا“ کو بھی یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ ہم نے گھڑیاں بنتے ہوئے دیکھی ہیں۔ لیکن دنیا میں بنتی ہوئی نہیں دیکھیں۔ اس لیے کیوں کر ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم خدا کو مانیں۔

سائنس کی ترقی اور علم کے پھیلاؤ نے اب انسان کو وہ کچھ دکھا دیا ہے جس کو پہلے اس نے دیکھا نہیں تھا۔ واقعات کی جن کڑیوں کو نہ جاننے کی وجہ سے ہم سمجھ نہیں سکتے تھے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا۔ وہ اب واقعات کی تمام کڑیوں کے سامنے آجانے کی وجہ سے ایک جانی بوجھی چیز بن گیا ہے۔ مثلاً پہلے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues

Printed page