Nature is a fact, not an explanation.
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۷
آدمی یہ نہیں جانتا تھا کہ سورج کیسے نکلتا اور کیسے ڈوبتا ہے۔ اس لیے اس نے سمجھ لیا کہ کوئی خدا ہے جو سورج کو نکالتا ہے اور اس کو غروب کرتا ہے۔ اس طرح ایک مافوق الفطری طاقت کا خیال پیدا ہوا۔ اور جس چیز کو آدمی نہیں جانتا تھا، اس کے متعلق کہہ دیا کہ یہ اسی طاقت کا کرشمہ ہے۔ مگر اب جب کہ ہم جانتے ہیں کہ سورج کا نکلنا اور ڈوبنا اس کے گرد زمین کے گھومنے کی وجہ سے ہوتا ہے تو سورج کو نکالنے اور غروب کرنے کے لیے خدا کو ماننے کی کیا ضرورت۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں جن کے متعلق پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ان کے پیچھے کوئی ان دیکھی طاقت کام کر رہی ہے وہ سب جدید مطالعہ کے بعد ہماری جانی پہچانی فطری طاقتوں کے عمل اور ردعمل کا نتیجہ نظر آیا۔ گویا واقعہ کے فطری اسباب معلوم ہونے کے بعد وہ ضرورت آپ سے آپ ختم ہو گئی جس کے لیے پہلے لوگوں نے ایک خدا یا فوق الفطری طاقت کا وجود فرض کر لیا تھا۔ ”اگر قوس قزح گرتی ہوئی بارش پر سورج کی شعاعوں کے انعطاف (refraction) سے پیدا ہوتی ہے تو یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ وہ آسمان کے اوپر خدا کا نشان ہے“ - بکسلے اس قسم کے واقعات پیش کرتا ہوا کس قدر یقین کے ساتھ کہتا ہے:
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. یعنی واقعات اگر فطری اسباب کے تحت صادر ہوتے ہیں تو وہ مافوق الفطری اسباب کے تحت پیدا کئے ہوئے نہیں ہو سکتے۔
اب اس دلیل کو لیجئے جو طبیعیاتی تحقیق کے حوالے سے پیش کی گئی ہے۔ یعنی کائنات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں جو واقعات ہورہے ہیں وہ ایک متعین قانون فطرت کے مطابق ہورہے ہیں۔ اس لیے ان کی توجیہہ کرنے کے لیے کسی نامعلوم خدا کا وجود فرض کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ معلوم قوانین خود اسکی توجیہہ کے لیے موجود ہیں۔ اس استدلال کا بہترین جواب وہ ہے جو ایک عیسائی عالم نے دیا۔ اس نے کہا:
Nature is a fact, not an explanation.
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues