”درست، مگر یہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں۔ “
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۹
جب ہم جان لیں کہ بچہ کی چونچ پر سینگ کیسے ظاہر ہوئی۔ دوسرے لفظوں میں اس آخری سبب کا پتہ لگائیں جو بچہ کی اس ضرورت سے واقف تھا کہ اس کو خول سے باہر نکلنے کے لیے کسی سخت مددگار کی ضرورت ہے اور اس نے مادہ کو مجبور کیا کہ عین وقت پر ٹھیک 21 روز بعد وہ بچہ کی چونچ پر ایک ایسی سینگ کی شکل میں نمودار ہو جو اپنا کام پورا کرنے کے بعد جھڑ جائے۔ گویا پہلے یہ سوال تھا کہ ”خول کیسے ٹوٹتا ہے۔ “ اور اب سوال یہ ہو گیا کہ ’’سینگ کیسے بنتی ہے۔ “ ظاہر ہے کہ دونوں حالتوں میں کوئی نوعی فرق نہیں۔ اس کو زیادہ سے زیادہ حقیقت کا وسیع تر مشاہدہ کہہ سکتے ہیں۔ حقیقت کی توجیہہ کا نام نہیں دے سکتے۔ یہاں میں ایک امریکی عالم حیاتیات Cecil Boyce Hamann کے الفاظ نقل کروں گا: ”غذا ہضم ہونے اور اس کے جزو بدن بننے کے حیرت انگیز عمل کو پہلے خدا کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ اب جدید مشاہدہ میں وہ کیمیائی رد عمل کا نتیجہ نظر آتا ہے۔ مگر کیا اس کی وجہ سے خدا کے وجود کی نفی ہوگئی۔ آخروہ کون طاقت ہے جس نے کیمیائی اجزاء کو پابند کیا کہ وہ اس قسم کا مفید رد عمل ظاہر کریں۔ غذا انسان کے جسم میں داخل ہونے کے بعد ایک عجیب و غریب خود کار نظام کے تحت جس طرح مختلف مراحل سے گزرتی ہے، اس کو دیکھنے کے بعد یہ بات بالکل خارج از بحث معلوم ہوتی ہے کہ یہ حیرت انگیز نظام محض اتفاق سے وجود میں آگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مشاہدہ کے بعد تو اور زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم یہ مانیں کہ خدا اپنے ان عظیم قوانین کے ذریعہ عمل کرتا ہے جس کے تحت اس نے زندگی کو وجود دیا ہے۔ “ (The Evidence of God in an Expanding Universe, p. 221)
یعنی فطرت کائنات کی توجیہہ نہیں کرتی، وہ خود اپنے لیے ایک توجیہہ کی طالب ہے۔ اگر آپ کسی ڈاکٹر سے پوچھیں کہ خون سرخ کیوں ہوتا ہے، تو وہ جواب دے گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں نہایت چھوٹے سرخ اجزا ہوتے ہیں (ایک انچ کے سات ہزارویں حصے کے برابر) یہی سرخ ذرات خون کو سرخ کرنے کا سبب ہیں۔
”درست، مگر یہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں۔ “
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues