Al-Risala · November 2015 · page 40

-(طبعی اور کیمیائی طاقتوں کا اندھا عمل) forces.

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۰

اس صورت میں جرائم پر قابو پانے کا کوئی موثر طریقہ تلاش کرنا ہو گا۔ "ان ذرات میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے جس کا نام ہیموگلوبن (Haemoglobin) ہے۔ اس ذرات میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے !

یہ مادہ جب پھیپھڑے میں آکسیجن جذب کرتا ہے تو گہرا سرخ ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ہے ، مگر ہیموگلوبن کے حامل سرخ ذرات کہاں سے آئے؟ “۔

" وہ آپ کی تلی میں بن کر تیار ہوتے ہیں "۔

ڈاکٹر صاحب! جو کچھ آپ نے فرمایا وہ بہت عجیب ہے۔ مگر مجھے بتائیے کہ ایسا کیوں ہے کہ خون ، سرخ ذرات، تلی اور دوسری ہزاروں چیزیں اس طرح ایک کل کے اندر باہم مربوط ہیں اور اس قدر صحت کے ساتھ اپنا اپنا عمل کر رہی ہیں“۔

”یہ قدرت کا قانون ہے“۔

”وہ کیا چیز ہے جس کو آپ قانون قدرت کہتے ہیں“۔

Blind interplay of physical and chemical — اس سے مراد ہے"

-(طبعی اور کیمیائی طاقتوں کا اندھا عمل) forces.

"مگر کیا وجہ ہے کہ یہ اندھی طاقتیں ہمیشہ ایسی سمت میں عمل کرتی ہیں جو انھیں ایک متعین انجام کی طرف لے جائے ۔ کیسے وہ اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرتی ہیں کہ ایک چڑیا اڑنے کے قابل ہو سکے۔ ایک مچھلی تیر سکے، ایک انسان اپنی مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ وجود میں آئے‘‘۔ "میرے دوست، مجھ سے یہ نہ پوچھو، سائنس داں صرف یہ بتا سکتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیا ہے، اس کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے‘‘۔ یہ سوال و جواب واضح کر رہا ہے کہ سائنسی دریافتوں کی حقیقت کیا ہے۔ بلاشبہہ سائنس نے ہم کو بہت سی نئی نئی باتیں بتائی ہیں ۔ مگر مذہب جس سوال کا جواب ہے، اس کا ان دریافتوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کی دریافتیں اگر موجودہ مقدار کے مقابلے میں اربوں، کھربوں گنا بڑھ جائیں ، جب بھی مذہب کی ضرورت باقی رہے گی ۔ کیونکہ یہ دریافتیں صرف ہونے والے واقعات کو بتاتی ہیں، یہ واقعات کیوں ہورہے ہیں اور ان کا آخری سبب کیا ہے۔ اس کا جواب ان دریافتوں کے اندر نہیں ܁ ܁ ܁ ܁ ܁

‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues

Printed page