قتل اور زندگی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۹
قتل اور زندگی
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک انسان کو مارنا سارے انسانوں کو مار ڈالنے کے برابر ہے، اور ایک انسان کو زندگی دینا سارے انسانوں کو زندگی دینے کے برابر ہے (5:32)۔ اس معاملے کی اتنی زیادہ سنگینی (seriousness) کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے براہِ راست طور پر اللہ رب العالمین کا معاملہ ہے۔ اگر چہ بظاہر وہ انسان کا معاملہ دکھائی دیتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کو مارنا خدا کے تخلیقی نقشہ میں مداخلت (intervene) کرنا ہے۔ ایک شخص کو اس نعمت سے محروم کرنا ہے کہ وہ اپنی عمر پوری کرے اور خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق اس کے لئے جو رول (role) مقدر ہے، اس رول کو وہ ادا کرنے سے محروم ہو جائے۔ اس کے برعکس، جب ایک شخص کو زندہ رہنے دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ اپنی پوری عمر زندہ رہے اور خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق دنیا میں اپنا مقرر رول ادا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ قتل اور زندگی دونوں براہِ راست طور پر خالق کا معاملہ بن جاتے ہیں۔
آدمی اگر اس معاملے کی سنگینی کو سمجھے تو وہ کبھی کسی کو قتل کرنے کی جرات نہ کرے۔ وہ انسان کو قتل کرنے سے اسی طرح ڈرے، جس طرح کوئی شخص آگ کے الاؤ کو دیکھتے ہوئے اس میں کودنے سے ڈرتا ہے۔
انسان خدا کی سب سے زیادہ اعلی مخلوق ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے (38:75)۔ اس بات کو اگر دنیوی زبان میں کہا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان اپنے خالق کا سب سے زیادہ نفیس آرٹ (finest art) ہے۔ کوئی آرٹسٹ اس کو برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص اس کے آرٹ ورک پر ہتھوڑا چلا کر اس کو توڑ دے۔ خالق کا ئنات اس سے بے شمار گُنا زیادہ اس کو ناپسند کرے گا کہ اس کے پیدا کیے ہوئے ایک انسان کو کوئی شخص ہلاک کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues