Al-Risala · December 2015 · page 10

عقل سے محرومی کا دور

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۰

عقل سے محرومی کا دور

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ سنن ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں: إن بين يدي الساعة هرجا، قال: قلت: يا رسول الله، ما الهرج؟ قال: القتل، فقال بعض المسلمين: يا رسول الله، إنا نقتل الآن في العام الواحد من المشركين كذا وكذا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس بقتل المشركين، ولكن يقتل بعضكم بعضا، حتى يقتل الرجل جاره، وابن عمه وذا قرابته، فقال بعض القوم: يا رسول الله، ومعنا عقولنا ذلك اليوم؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا، تنزع عقول أكثر ذلك الزمان، ويخلف له هباء من الناس لا عقول لهم ۔ (حدیث نمبر: 3959) یعنی بے شک قیامت سے پہلے ہرج کا زمانہ ہوگا۔ صحابہ نے پوچھا، اے اللہ کے رسول ہرج کیا ہے، آپ نے فرمایا کہ قتل ۔ مسلمانوں میں سے بعض نے کہا، اے اللہ کے رسول، اس وقت ایک سال میں مشرکین میں سے اتنے اتنے کو ہم قتل کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری مراد مشرکین کے قتل سے نہیں ہے۔ بلکہ تم میں سے بعض بعض کو قتل کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک شخص اپنے پڑوسی کو قتل کرے گا، اور اپنے چچا کے بیٹے کو، اور اپنے رشتہ داروں کو۔ پھر لوگوں میں سے بعض نے کہا اے اللہ کے رسول، کیا ان دنوں ہمارے ساتھ عقل ہوگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، اس زمانے کے اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی، لوگ غبار کی طرح باقی رہیں گے، ان کو عقل نہ ہوگی۔

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں کی عقلیں چھن جائیں گی۔ اس کی ایک علامت یہ ہوگی کہ وہ خود اپنی قوم کے لوگوں کو قتل کریں گے۔ عقل چھن جانے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت باقی نہ رہے گی کہ وہ واقعات کی صحیح توجیہہ کریں۔ چناں چہ غلط توجیہہ کے ذریعے وہ اپنے دشمن کو اپنا دوست سمجھیں گے ، اور اپنے دوست کو اپنا دشمن قرار دیں گے۔ اسی غلط توجیہہ کو حدیث میں عقل چھننے سے تعبیر کیا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues

Printed page