Al-Risala · December 2015 · page 16

کائنات میں خدا کی گواہی

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۶

کائنات میں خدا کی گواہی

زمین پر زندگی کے پائے جانے کے لیے اتنے مختلف حالات کی موجودگی ناگزیر ہے کہ ریاضیاتی طور پر یہ بالکل ناممکن ہے کہ وہ اپنے مخصوص تناسب میں محض اتفاقاً زمین کے اوپر اکٹھا ہو جائیں۔ اب اگر ایسے حالات پائے جاتے ہیں تو لازماً یہ ماننا ہوگا کہ فطرت میں کوئی ذی شعور رہنمائی موجود ہے جو ان حالات کو پیدا کرنے کا سبب ہے۔

زمین اپنی جسامت کے اعتبار سے کائنات میں ایک ذرہ کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتی مگر اس کے باوجود ہماری تمام معلوم دنیاؤں میں اہم ترین ہے۔ کیونکہ اس کے اوپر حیرت انگیز طور پر وہ حالات مہیا ہیں جو ہمارے علم کے مطابق اس وسیع کائنات میں کہیں نہیں پائے جاتے ۔ سب سے پہلے زمین کی جسامت کو لیجئے۔ اگر اس کا حجم کم یا زیادہ ہوتا تو اس پر زندگی محال ہوجاتی۔ مثلاً یہ کرہ زمین اگر چاند اتنا چھوٹا یعنی اس کا قطر موجودہ کی نسبت سے 4 ہوتا تو اس کی کشش ثقل ، زمین کی موجودہ کشش کا رہ جاتی ۔ کشش کی اس کمی کا نتیجہ یہ ہو جاتا کہ وہ پانی اور ہوا کو اپنے اوپر روک نہ سکتی جیسا کہ جسامت کی اسی کمی کی وجہ سے چاند میں واقع ہوا ہے ۔ چاند پر اس وقت نہ تو پانی ہے اور نہ کوئی ہوائی کرہ۔ ہوا کا غلاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ رات کے وقت بے حد سرد ہو جاتا ہے اور دن کے وقت تنور کی مانند جلنے لگتا ہے۔ اسی طرح کم جسامت کی زمین کشش کی کمی کی وجہ سے پانی کی اس کثیر مقدار کو روک نہ سکتی جو زمین پرموسمی اعتدال کو باقی رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اسی بنا پر ایک سائنسداں نے اس کو عظیم توازنی پہیہ (great balance wheel) کا نام دیا ہے (28 Man Does not Stand Alone, p)۔ اور ہوا کا موجودہ غلاف اڑ کر فضا میں گم ہو جاتا تو اس کا حال یہ ہوتا کہ اس کی سطح پر درجہ حرارت چڑھتا تو انتہائی حد تک چڑھ جاتا اور گرتا تو انتہائی حد تک گر جاتا۔ اس کے برعکس اگر زمین کا قطر، موجودہ قطر کی نسبت سے دگنا ہوتا تو اس کی کشش ثقل بھی دگنی بڑھ جاتی۔ کشش کے اس اضافہ کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ہوا، جو اس وقت زمین کے اوپر پانچ سو

‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues

Printed page