کائنات میں خدا کی گواہی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۷
میل کی بلندی تک پائی جاتی ہے، وہ کھنچ کر بہت نیچے تک سمٹ جاتی۔ اس کے دباؤ میں فی مربع انچ 15 تا 30 پونڈ کا اضافہ ہو جاتا جس کا ردِّ عمل مختلف صورتوں میں زندگی کے لیے نہایت مہلک ثابت ہوتا۔ اور اگر زمین سورج سے اتنی بڑی ہوتی اور اس کی کثافت برقرار رہتی تو اس کی کشش ثقل ڈیڑھ سو گنا بڑھ جاتی۔ ہوا کے غلاف کی دبا وت گھٹ کر پانچ سو میل کے بجائے صرف چار میل رہ جاتی۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ ہوا کا دباؤ ایک ٹن فی مربع انچ تک جا پہنچتا۔ اس غیر معمولی دباؤ کی وجہ سے زندہ اجسام کا نشوونما ممکن نہ رہتا۔ ایک پونڈ وزنی جانور کا وزن ایک سو پچاس پونڈ ہو جاتا۔ انسان کا جسم گھٹ کر گلہری کے برابر ہو جاتا اور اس میں کسی قسم کی ذہنی زندگی ناممکن ہو جاتی۔ کیوں کہ انسانی ذہانت حاصل کرنے کے لیے بہت کثیر مقدار میں اعصابی ریشوں کی موجودگی ضروری ہے اور اس طرح کے پھیلے ہوئے ریشوں کا نظام ایک خاص درجہ کی جسامت ہی میں پایا جا سکتا ہے۔
بظاہر ہم زمین کے اوپر ہیں مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ہم اس کے نیچے سر کے بل لٹکے ہوئے ہیں۔ زمین گو یا فضا میں معلق ایک گیند ہے جس کے چاروں طرف انسان بستے ہیں۔ کوئی شخص ہندوستان کی زمین پر کھڑا ہو تو امریکا کے لوگ بالکل اس کے نیچے ہوں گے اور امریکا میں کھڑا ہو تو ہندوستان اس کے نیچے ہوگا۔ پھر زمین ٹھہری ہوئی نہیں ہے بلکہ ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل گھوم رہی ہے۔ ایسی حالت میں زمین کی سطح پر ہمارا انجام وہی ہونا چاہیے جیسے سائیکل کے پہیے پر کنکر یاں رکھ کر پہیے کو تیزی سے گھما دیا جائے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایک خاص تناسب سے زمین کی کشش اور ہوا کا دباؤ ہم کو ٹھہرائے ہوئے ہے۔ زمین کے اندر غیر معمولی قوت کشش ہے جس کی وجہ سے وہ تمام چیزوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور اوپر سے ہوا کا مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔ اس دو طرفہ عمل نے ہم کو زمین کے گولے پر چاروں طرف لٹکا رکھا ہے۔ ہوا کے ذریعہ جو دباؤ پڑتا ہے وہ جسم کے ہر ایک مربع انچ پر تقریباً ساڑھے سات سیر تک معلوم کیا گیا ہے۔ یعنی ایک اوسط آدمی کے سارے جسم پر تقریباً 280 من کا دباؤ۔ آدمی اس وزن کو محسوس نہیں کرتا۔ کیونکہ ہوا جسم کے چاروں طرف ہے۔ دباؤ ہر طرف سے پڑتا ہے اسی لیے آدمی کو محسوس نہیں ہوتا۔ جیسا کہ پانی میں غوطہ لگانے کی صورت میں ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues