قتلِ انسان
الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۶
قتلِ انسان
قرآن کی سورہ المائدہ میں قتلِ انسان کا حکم بتایا گیا ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعاً وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا (32 : یعنی جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔
خدا کی شریعت میں سب سے زیادہ سنگین جرم (serious crime) یہ ہے کہ کسی حقیقی سبب کے بغیر ایک انسان دوسرے انسان کو قتل کر دے۔ ایسے ایک انسانی قتل کو قرآن میں سارے انسانوں کو قتل کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایسا ایک واقعہ قتلِ انسانی کی حرمت کے بارے میں لوگوں کی حساسیت کو ختم کر دیتا ہے۔ خدائی شریعت کے مطابق یہ مطلوب ہے کہ انسانی قتل کی حرمت کے بارے میں لوگ آخری حد تک حساس ہوں۔ مگر جب کسی مسلمہ سبب (accepted reason) کے بغیر کسی کو قتل کر دیا جائے تو لوگوں کے اندر احساسِ حرمت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
انسان کو پیدا کرنے والا، انسان نہیں ہے، بلکہ یہ خدا ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کو ہرگز یہ حق نہیں ہے کہ وہ خدا کے پیدا کئے ہوئے انسان کو قتل کر دے۔ اس قسم کا قتل صرف اس وقت جائز ہو سکتا ہے جب کہ خود خدا کی شریعت کے مطابق اس کا جواز ثابت ہوتا ہو۔ کوئی دوسرا عذر اس قسم کے فعل کو جائز ثابت نہیں کرتا۔ قاتل کا کوئی خود ساخته عذر ہرگز ایسے فعل کے لئے کافی نہیں۔
یہ فطرت کا عام اصول ہے۔ انسان نے پانی کو پیدا نہیں کیا، اس بنا پر انسان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع کرے ۔ انسان نے غذا کو پیدا نہیں کیا، اس بنا پر انسان کے لئے جائز نہیں کہ وہ چاول کا ایک دانہ بھی ضائع کرے ۔ یہی اصول شدید تر انداز میں انسان کے لئے ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues