Al-Risala · February 2015 · page 7

Mob. 09755300295, 07556542231

الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۷

کسی انسان نے انسان کو پیدا نہیں کیا، اس لئے کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایک انسان کو اس کی زندگی سے محروم کردے۔

قتل انسان کا معاملہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ انسان کا قتل دراصل خالق کے منصوبہ کا قتل ہے۔ انسان تخلیق کا سب سے زیادہ نادر نمونہ ہے۔ خالق نے اس نادر نمونے کو یقینا کسی عظیم مقصد کے تحت بنایا ہے۔ ہر انسان جو پیدا ہوتا ہے، وہ ایک عظیم مقصد کے لئے پیدا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کو قتل کرنا۔ سادہ طور پر ایک انسان کو قتل کرنے کے ہم معنی نہیں ہے، بلکہ وہ خود خالق کے تخلیقی منصوبے کو قتل کرنے کے ہم معنی ہے۔

جب ایک انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس دنیا میں زندگی گزارے۔ وہ یہاں خالق کے منصوبے کی تکمیل کرے۔ وہ اپنے بارے میں خالق کی امیدوں کو پورا کرے۔ ایک انسان کا پیدا ہونا اتنا ہی اہم ہے جتنا ایک درخت کا اگنا۔ ایک درخت جب اگتا ہے تو وہ اس لئے اگتا ہے کہ وہ باغ عالم میں نمو (grow) کرے۔ وہ بڑھ کر پورا درخت بنے، اور دنیا والوں کو پھول اور پھل کا تحفہ دے۔ ایسے درخت کو کاٹنا اگر ایک درجہ کا جرم ہے تو انسان کو قتل کرنا ہزار ملین سے بھی زیادہ بڑے درجے کا جرم ہے۔ انسان کو زندگی دینا کیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ باحیات رہ کر اپنے مقصد تخلیق کو پورا کرے، وہ اپنے مقصد تخلیق کو دریافت کرے، پھر اس کے مطابق وہ اپنے لئے ایک عملی منصوبہ بنائے، پھر حقیقت پسندانہ انداز میں اس کو مکمل کرنے کی کوشش کرے، وہ اپنے سماج کا ایک مفید عنصر بنے، وہ تاریخ انسانی کے اس باب کو لکھے، جو اس کے خالق نے اس کے لئے مقدر کیا ہے۔ بھوپال میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے لیے حسب ذیل پتے پر رابطہ قائم فرمائیں: Mr. Bilaluddin Al-Quran Mission 48, Aamwali Masjid, Jahangirabad, Bhopal (M.P.)

Mob. 09755300295, 07556542231

‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues

Printed page