آزاد کشمیر یا بر باد کشمیر
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۷
بن جائے تو یقینی طور پر اس کا انجام وہی ہوگا جو اریٹیریا کا ہوا۔ یعنی آزاد کشمیر کے نام پر ایک برباد کشمیر کا وجود میں آنا۔ کشمیریوں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں نتیجہ کو دیکھیں نہ کہ صرف لیڈروں کے خوب صورت نعرے کو۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث موطا امام مالک، مسند احمد، سنن الترمذی، سنن ابن ماجہ، اور صحیح ابن حبان، وغیرہ کتب حدیث میں آئی ہے۔ سنن الترمذی کے الفاظ یہ ہیں: إن من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيہ۔ (حدیث نمبر (2318) یعنی بے شک اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ انسان اس چیز کو چھوڑ دے جس میں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ مشہور محدث ابو داؤد (وفات 275ھ) نے اس حدیث کی شرح کے تحت لکھا ہے: يكفي الإنسان لدينہ أربعة أحاديث أحدها قوله صلى اللہ علیہ وسلم الأعمال بالنيات، والثاني قوله من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيہ الخ۔ (معالم السنن، (4/365) یعنی انسان کو اپنے دین کے لیے چار احادیث کافی ہیں۔ ان میں سے ایک مذکورہ حدیث ہے۔ یعنی بے نتیجہ کام کو چھوڑ دینا۔
انسان اپنے ذہن کے تحت ایک کام شروع کرتا ہے۔ درمیان میں اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا منصوبہ غلط تھا، اس کا منصوبہ مطلوب نتیجہ پیدا کرنے والا نہ تھا۔ جب یہ حقیقت معلوم ہو تو سچے مسلمان کو چاہیے کہ وہ فوراً اپنے غلط اندازے کا اعتراف کرتے ہوئے اس عمل کو چھوڑ دے۔ اور تجربات کی روشنی میں اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ یہی طریقہ اسلام کے مطابق ہے، اور یہی طریقہ دانش مندی کے مطابق۔
تقریباً ستر سال کا عمل اور اریٹیریا جیسے ملکوں کی مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کشمیریوں کی نام نہاد تحریک آزادی یقینی طور پر ایک بے نتیجہ تحریک ہے۔ ایسی حالت میں کشمیر کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اعلان کر دیں کہ ماضی میں ہم نے غلطی کی، اب ہم اپنے عمل کی تصحیح کرتے ہیں۔ یعنی کشمیر کے موجودہ ڈھانچے کو تسلیم کرتے ہوئے تعمیر و ترقی کا منصوبہ بنانا۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کا نشانہ آزاد کشمیر کے بجائے ترقی یافتہ کشمیر ہونا چاہیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues