آزاد کشمیر یا بر باد کشمیر
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۶
آزاد کشمیر یا بر باد کشمیر
1947 کے بعد سے کشمیر میں آزادی کے نام پر علاحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔ اس تحریک پر اب تقریباً ستر سال گزر چکے ہیں۔ اس نام نہاد آزادی کی تحریک سے کشمیریوں کو اب تک عملاً صرف بربادی حاصل ہوئی۔ بالفرض اگر آزاد کشمیر بن جائے تو اس سے کشمیریوں کی بربادی میں صرف اضافہ ہوگا اور کچھ نہیں۔
کشمیر کے لیے ایک عبرت ناک مثال اریٹیریا (Eritrea) کی ہے۔ اریٹیریا پہلے ایتھوپیا کا ایک حصہ تھا۔ اریٹیریا کی آبادی میں تقریبا نصف مسلمان بستے ہیں۔ ان مسلمانوں نے آزاد اریٹیریا کے نام پر متشددانہ تحریک چلائی۔ اس میں بہت سے لوگ مارے گئے۔ آخر کار 1993 میں اقوام متحدہ (UNO) کے تحت ریفرنڈم ہوا۔ اس کے بعد اریٹیریا وجود میں آیا۔ مگر نتیجہ کیا ہوا۔ عملاً صرف یہ ہوا کہ اریٹیریا کے حالات اتنے زیادہ خراب ہو گئے کہ لوگ بھاگ کر باہر جانے لگے۔ یہ واقعہ بظاہر مہاجرت ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ مایوسانہ فرار ہے۔ آن لائن انسائیکلوپیڈیا، وکی پیڈیا کے مطابق، اریٹیریا سے اس مہاجرت کا سبب ملک میں شدید غربت اور تشدد کا ماحول ہے:
Emigration from the country is occurring due to poverty and violence. کینیا میں قائم شدہ آرگنائزیشن ( The Regional Mixed Migration Secretariat [RMMS]) کے ایک سروے کے مطابق، اریٹیریا دنیا کے غریب ترین ملکوں میں سے ایک ہے:
Eritrea is one of the poorest countries in the world. یہ تجربہ کشمیریوں کے لیے ایک چشم کشا واقعہ ہے۔ کشمیر اگر بالفرض ایک آزاد ملک
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues