Al-Risala · December 2015 · page 29

جنگ، اسلام میں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۹

جنگ، اسلام میں

اسلام کی آئیڈیالوجی توحید ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات دراصل توحید کے بنیادی تصور پر مبنی ہیں۔ اسلام کی دوسری تعلیم امن ہے۔ امن کی اہمیت عملی ضرورت کے اعتبار سے ہے۔ اسلام کا اصل مقصد اصلاح انسان ہے۔ اور اس قسم کے مقصد کو صرف امن کے حالات میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ امن معتدل حالات کا ذریعہ ہے۔ اور معتدل حالات کو ممکن بنا دیتے ہیں۔ اسلام میں جنگ کوئی مستقل اصول نہیں، اسلام میں جنگ قانون ضرورت (law of necessity) کے تحت پیش آنے والا ایک وقتی عمل ہے، نہ کہ کسی ابدی اصول کے تحت کیا جانے والا مستقل عمل۔ اسلام میں جنگ کا حکم سمجھنے کے لیے قرآن کی دو آیتوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ 1 - اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنه باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے۔ یہ جنگ کی وہ قسم ہے جو اسلام کے دور اول میں وقتی ضرورت کے تحت پیش آئی۔ اب یہ ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس لیے اب ختم فتنہ کے نام پر جنگ کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ قدیم زمانے میں مذہبی آزادی (religious freedom) کو مسلمہ انسانی حق کی حیثیت حاصل نہ تھی، اب مذہبی آزادی ایک مسلمہ انسانی حق کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے اب دنیا میں نہ فتنه ہے، نہ فتنے کے نام پر جنگ کا کوئی جواز۔

قرآن کی اس آیت میں فتنے سے مراد شرک جارح (aggressive shirk) ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جا سکتا ہے۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے دنیا میں شخصی بادشاہت کا نظام قائم تھا۔ اس سیاسی نظام کے تحت مذہب کے معاملے میں انسان کے لیے کوئی آزادانہ چوائس (choice) موجود نہ تھا۔ اس زمانے کا اصول یہ تھا کہ جو حکومت کا مذہب، وہی عوام کا مذہب۔ مذہب حکومت سے وفاداری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ حکومت

‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues

Printed page