Al-Risala · December 2015 · page 30

جنگ، اسلام میں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۰

کے آفیشیل مذہب کے سوا کوئی اور مذہب اختیار کرنا، حکومت سے بغاوت کے ہم معنی تھا۔ اس لیے وہ جرم مستوجب سزا (cognizable offence) کی حیثیت رکھتا تھا۔

یہ صورتِ حال جو قدیم بادشاہت (kingship) کے تحت قائم تھی، وہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) کے خلاف تھی۔ تخلیقی نقشہ کے مطابق ہر انسان کو پوری آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنے لیے جس مذہب کو چاہے اختیار کرے (29:18)۔ مگر بادشاہی نظام کے تحت مذہب انسان کے لیے ذاتی انتخاب کا مسئلہ نہ تھا بلکہ وہ جبر (compulsion) کا مسئلہ بنا ہوا تھا۔ یہ گویا خالق کے قائم کردہ تخلیقی نظام کو کالعدم (abolish) کرنے کے ہم معنی تھا۔ خالق کے نزدیک یہ ایک نا قابل قبول حالت تھی۔ چناں چہ اللہ نے رسول اور اصحابِ رسول کو یہ حکم دیا کہ وہ اس فتنے کو بزور ختم کر دیں۔ تا کہ خدا کا منصوبہ اپنی اصل حالت پر قائم ہو جائے۔ یہی وہ خدائی منصوبہ ہے جس کا حکم اس آیت میں موجود ہے۔ یہ عمل (operation) پیغمبر اسلام کے زمانے میں شروع ہوا، اور خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کے زمانے میں وہ اپنی تکمیل کو پہنچا۔ اس کے بعد ایک انقلابی عمل جاری ہوا جس کے نتیجے میں دنیا سے مذکورہ فتنہ کی حالت ختم ہو گئی۔ اس لیے اب اس مقصد کے لیے جنگ کی ضرورت عملاً باقی نہیں رہی۔ اس معاملے کی وضاحت صحابیِ رسول عبد اللہ ابن عمر (وفات: 73ھ) کے ایک واقعے سے ہوتی ہے۔ خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کی وفات سن 23ھ میں ہوئی ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد مسلم دنیا میں سیاسی انارکی کی صورت پیدا ہو گئی۔ اس زمانے میں عبد اللہ بن زبیر (وفات: 73ھ) اور اموی حکومت کے درمیان جنگ شروع ہو گئی۔ عبد اللہ بن عمر اس کے خلاف تھے، انھوں نے اس جنگ میں شرکت نہ کی۔ اس زمانے میں کچھ مسلمان آپ کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ اس جنگ میں کیوں شریک نہیں ہیں، حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ فتنہ کے خلاف جنگ کرو (8:39)۔ عبد اللہ ابن عمر نے جواب دیا کہ تمھاری جنگ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن کی یہ آیت جس جنگ کے بارے میں تھی، اس جنگ کی ضرورت اب ختم ہو چکی ہے۔ اس موقع پر انھوں نے کہا: قد فعلنا علی عہد رسول الله صلى الله عليه وسلم (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4650) یعنی وہ جنگ ہم رسول اللہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues

Printed page