Al-Risala · December 2015 · page 33

حدیث رسول

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۳

ہو یا نہ نکلتا ہو۔ کیوں کہ اب لڑنے والوں کا ذہن یہ ہوگا کہ اگر وہ لڑائی میں مارے جائیں تب بھی وہ کامیاب ہیں۔ کیوں کہ وہ اپنے مفروضہ کے مطابق یہ سمجھیں گے کہ مر کر وہ ”مقتول فی سبیل اللہ‘ کا درجہ پائیں گے، اور موت کے بعد سیدھے جنت میں داخل ہوں گے۔

قرآن وحدیث کی مذکورہ تشریح سرتاسر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں جنگ کا تعلق قانون ضرورت (law of necessity) سے ہے۔ جب ضرورت ختم تو لڑائی بھی ختم۔ اسلام کے اعتقادی نظام کی بنیاد صرف وہ چیزیں ہیں جن کو حدیث میں پانچ ارکان (ارکان خمسہ) کہا گیا ہے۔ اسلام کا اعتقادی نظام (belief system) ہمیشہ وہی رہے گا جو قرآن وحدیث میں بتا دیا گیا، اس میں کوئی کمی یا اضافہ سرے سے جائز نہیں۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر اسلام کے نام پر جو تشدد کلچر جاری ہے، اس کا سبب یہی ہے۔ یہ گویا غلط تاویل کے ذریعے جائز کردہ تشدد (justified violence) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ خودکش بمباری (suicide bombing) کرکے قُصداً اپنے کو ہلاک کرتے ہیں۔ کیوں کہ بطور خود وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہلاک ہوتے ہی وہ فوراً جنت میں پہنچ جائیں گے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو سیف کلچر یا تشدد کلچر بڑے پیمانے پر جاری ہے، اس کو ختم کرنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ اسلام میں جنگ کا تعلق اسلام کے اعتقادی نظام سے نہیں ہے۔ اس کا جواز وقتی طور پر صرف حقیقی ضرورت کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس لیے جنگ کو اس کے نتیجہ کے اعتبار سے جانچا جائے گا، نہ کہ عقیدے کے اعتبار سے۔ اور جیسا کہ عرض کیا گیا اب جنگ مکمل طور ایک بے نتیجہ چیز بن چکی ہے۔

اقدام سے بہتر اقدام نہ کرنا ہے جب کہ اقدام کا نتیجہ بد سے بدتر ثابت ہونے والا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues

Printed page