حدیث رسول
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۲
نظام کے پابند ہوں گے۔ اقوام متحدہ (UN) کے تحت جو اصول تمام قوموں کے لیے قابل قبول ہوں، وہی اصول اہل اسلام کے لیے بھی قابل قبول ہوں گے۔
حدیث رسول
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تنبیہہ امت مسلمہ کو پیشگی طور پر یہ خبر دی تھی کہ امت کے اندر بڑے پیمانے پر لڑائیاں ہوں گی۔ اس سلسلے میں ایک روایت یہ ہے: ألا وإني أخاف على أمتي الأئمة المضلين، وإذا وضع السيف في أمتي لم يُرفع عنها إلى يوم القيامة (مسند أحمد، حدیث نمبر 22452) یعنی سن لو، میں ڈرتا ہوں اپنی امت پر گمراہ کرنے والے لیڈروں سے، اور میری امت میں جب لڑائی شروع ہو جائے گی، تو وہ قیامت تک ان سے ختم نہیں ہوگی۔ اس مفہوم کی اور بھی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ یہاں یہ سوال ہے کہ رسول اللہ نے جو دین امت کو دیا تھا، وہ تو امن اور رحمت کا دین تھا۔ پھر کیوں ایسا ہوگا کہ امت مسلمہ بعد کے زمانے میں جنگ و قتال میں مشغول ہو جائے گی۔ اس کا جواب خود اس حدیث میں موجود ہے۔ ایسا خود امت کے لیڈروں کی غلط رہنمائی کی بنا پر ہوگا، جو امت مسلمہ کے اندر بعد کے زمانے میں پیدا ہوں گے، اور قرآن وحدیث کی خود ساختہ تاویل کر کے امت کو جنگ و قتال کے راستے پر ڈال دیں گے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت ہوگا جب کہ غلط تاویل و تشریح کے ذریعے جنگ کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا جائے گا۔ حقیقت کے اعتبار سے جنگ ایک وقتی ضرورت کا عمل ہے، جنگ کا اسلام کے اعتقادی نظام (belief system) سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ مگر بعد کے زمانے کے بھٹکے ہوئے لیڈر جنگ کو خود ساختہ تاویل کے ذریعے اسلام کے اعتقادی نظام کا حصہ بنا دیں گے۔ یہی وہ چیز ہے جو جنگ کو امت کے لیے ایک مقدس عمل کی حیثیت دے دے گی جو کبھی ختم نہ ہو۔ جنگ کو اگر حقیقی ضرورت کی چیز سمجھا جائے تو اس کا معیار (criterion) نتیجہ (result) ہوگا۔ یعنی مثبت نتیجہ نکلے تو جنگ کی جائے گی، ورنہ جنگ بند کردی جائے گی۔ لیکن جب ایسا ہو کہ جنگ کو عقیدہ کا درجہ دے دیا جائے تو وہ ہر حال میں جاری رکھی جائے گی۔ خواہ دنیا میں اس کا کوئی نتیجہ نکلتا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues