Al-Risala · December 2015 · page 35

ایک ایسا رہبر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۵

غلطی کا اعتراف

اگر کسی معاملہ کرتے ہوئے، آپ سے کوئی غلطی ہو جائے ۔ اس کے بعد آپ شرمندہ اور فوراً یہ کہہ دیں کہ بھائی صاحب، مجھ سے غلطی ہوگئی۔ مجھ کو معاف کردیجیے: Sorry, I was wrong!

اگر آپ ایسا کہیں، تو آپ کی طرف سے یہ غلطی پر معافی مانگنے کا معاملہ باپ رندہ)

ر ہوتا ہے۔ لیکن)

الٹا اپ ایسا ہیں۔ لو آپ کی طرف سے یہ کسی پر معافی مانگنے کا معاملہ ہوتا ہے۔ تین دوسرے شخص کے لیے وہ اس کے ضمیر (conscience) کو جگانے کا معاملہ بن جاتا ہے۔ اس کا ضمیر اس سے کہتا ہے کہ دوسرے شخص نے شرافت کا ثبوت دیا ہے۔ تم کو بھی اسی طرح شرافت کا ثبوت دینا چاہیے۔ وہ اگر اپنی غلطی کی معافی مانگ رہا ہے تو تم کو بھی اس کے ساتھ اسی درجے کا کوئی معاملہ کرنا چاہیے۔

غلطی کی معافی مانگنا بظاہر ایک پسپائی کا معاملہ ہے۔ لیکن انسانی نفسیات کے اعتبار سے وہ اقدام کا ایک معاملہ ہے۔ معافی مانگنے والا اپنے شرافت کا ثبوت دے کر فریقِ ثانی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بھی اس کے ساتھ شرافت کا ثبوت دے۔ تا کہ لوگوں کی نظر میں اور خود اپنی نظر میں وہ کم تر ثابت نہ ہو۔ غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا، معاملے کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس، غلطی کرنے کے بعد غلطی کا اعتراف کرنا معاملے کو ختم کر دیتا ہے۔ ایک واقعہ جو انسانوں کے درمیان نفرت کا سبب بن سکتا تھا، وہ دونوں کو ایک دوسرے کا دوست بنا دیتا ہے۔ آدمی نے غلطی کر کے جو کچھ کھویا تھا، وہ غلطی کا اعتراف کر کے اس سے بہت زیادہ پا لیتا ہے۔

غلطی کرنے کے بعد، اپنی غلطی کی صفائی پیش کرنا یا یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ اس کی غلطی، غلطی نہیں تھی، صرف نادانی کا کام ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی غلطی کرنے کے بعد فوراً اپنی غلطی کو مان لے۔ فوراً اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا ایک موقع کو کھونے کے ہم معنی ہے، ایک ایسا موقع جو ی زمانی ہے۔ دوسرا پل میں سانس کا نہ رہنا ایک ایسا رت ہے دوبارہ کبھی آنے والا نہیں۔

ایک ایسا رہبر

‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues

Printed page