پیغمبر کی نصیحت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۶
پیغمبر کی نصیحت
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: قال أنس بن مالك، قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا بني، إن قدرت أن تصبح وتمسي ليس في قلبك غش لأحد فافعل (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2678)۔ انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا، اے میرے بیٹے، اگر تم اس پر قادر ہو کہ تم صبح کرو اور تم شام کرو اور تمھارے دل میں کسی شخص کے خلاف غش نہ ہو تو تم ضرور ایسا کرو۔
غش کا مطلب کینہ (malice) ہے۔ حدیث میں غش کا لفظ نکرہ ہے۔ اس لحاظ سے اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ تمھارے دل میں کسی کے خلاف کسی قسم کا کوئی کینہ یا بغض نہ ہو۔ یہ مومن کی ایک بنیادی خصوصیت ہے۔ سچا مومن وہ ہے جس کے دل میں کسی کے خلاف کسی بھی قسم کا کینہ موجود نہ ہو۔ ایک آدمی کے اندر کسی کے خلاف کینہ کب پیدا ہوتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ کسی وجہ سے اس کے دل میں غصہ یا ناراضگی پیدا ہو جائے۔ کسی کے خلاف کینہ کبھی بلا سبب پیدا نہیں ہوتا۔ کینہ جب بھی کسی کے دل میں آتا ہے تو ہمیشہ اس کے پاس اپنے کینے کے لیے ایک سبب موجود ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تمھارے پاس اپنے کینے کے لیے کوئی سبب موجود ہو تب بھی تم کینہ نہ کرو۔
اس نصیحت رسول کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ اپنے ایمان کی شعوری حفاظت کرو۔ گویا زبان سے ایمان کا کلمہ دہرادینا کافی نہیں ہے۔ بلکہ مسلسل طور پر اس کی نگرانی کرنا ہے۔ تاکہ کوئی مخالف ایمان چیز آدمی کے دل میں داخل نہ ہو۔ کوئی ایسی سوچ اس کے اندر ڈیولپ نہ کرے جو اس کے ایمان کو نقصان پہنچانے والی ہو۔ اگر آدمی اپنے ایمان کی شعوری نگرانی نہ کرے تو عین ممکن ہے کہ وہ کسی ایسی چیز میں مبتلا ہو جائے جو اس کے ایمان میں خلل ڈالنے والی ہو، جو اس کے لیے اس کی جنت کو مشتبہ بنادے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues