زد میں آنے سے بچے
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۲
زد میں آنے سے بچے
اگست 2015 کی 20 تاریخ تھی۔ صبح کا وقت تھا۔ میں دہلی میں اپنے آفس کے سامنے کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہاں ایک شیڈ ہے جس میں چھت کا پنکھا (ceiling fan) لگا ہوا ہے۔ اس وقت ایک کبوتر اڑتا ہوا وہاں آیا۔ وہ چلتے ہوئے پنکھے کے ساتھ ٹکرا گیا۔ وہ زخمی ہو کر گر پڑا، اور پھڑپھڑانے لگا، تھوڑی دیر کے بعد معلوم ہوا کہ وہ مر چکا ہے۔
اس منظر نے میرے ذہن کو جھنجھوڑ دیا۔ میں سوچنے لگا: کیا یہ پنکھا کبوتر کا دشمن ہے۔ کیا اس پنکھے نے ظالمانہ طور پر اس کبوتر کا خون کیا ہے۔ میرے ذہن نے جواب دیا کہ نہیں۔ پنکھے کو معلوم ہی نہیں کہ اس کے چلنے سے کیا حادثہ پیش آیا۔ اصل بات صرف یہ ہے کہ کبوتر چلتے ہوئے پنکھے کی زد میں آگیا۔ وہ فوراً پنکھے سے ٹکرا گیا۔ وہ زخمی ہو کر گرا، اور چند منٹ کے اندر مر گیا۔ مزید سوچتے ہوئے میرے ذہن میں آیا کہ اس واقعے میں ہر ایک کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ وہ یہ کہ اپنے آپ کو دوسرے کی زد میں آنے سے بچاؤ۔ اور پھر تمھیں کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔
یہ دنیا ایک متحرک دنیا ہے۔ یہاں ہر چیز مسلسل طور پر حرکت میں ہے۔ اسی طرح ہر انسان، اور ہر انسانی گروہ اپنی اپنی دوڑ لگا رہا ہے۔ یہ دوڑ بھاگ کسی کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص نادانی کرے، اور جانتے بوجھتے یا بغیر جانے ہوئے لوگوں کے دوڑ کی زد میں آجائے تو وہ اپنے آپ کو ہلاک کرلے گا۔ اس لیے نہیں کہ دوسرا اس کو جان بوجھ کر ہلاک کرنا چاہتا تھا۔ بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی نادانی سے اس کی دوڑ کی زد میں آگیا۔ یہی اس دنیا کا امتحان ہے۔ یہاں کوئی کسی کا دشمن نہیں۔ یہاں کوئی ظالم اور سازشی نہیں۔ آپ اگر دوسروں کے ظلم کو دریافت کر کے اس کے خلاف شکایت کریں تو اس کا ہرگز کوئی فائدہ نہیں۔ کیوں کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ فطرت کے قانون کے مطابق ہو رہا ہے۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ فطرت کے قانون کو دریافت کریں، اور اپنی زندگی کا منصوبہ اس طرح بنائیں کہ آپ دوسروں کی زد میں آنے سے بچ جائیں۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راستہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues