زحمت میں رحمت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۴
زحمت میں رحمت
ایک امریکی خاتون مارگریٹ مثل (Margaret Munnerlyn Mitchell) کو ان کی زندگی میں کئی حادثات پیش آئے۔ ان کے پاؤں کی ہڈی میں شدید چوٹ آئی، جس کی وجہ سے وہ بستر پر پڑ گئیں۔ ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی کام نہ رہا کہ وہ بستر پر لیٹے ہوئے کتابیں پڑھتی رہیں۔ کتابوں کے مطالعے کا سلسلہ لمبی مدت تک جاری رہا۔ ان کے شوہر ان کو کتابیں لاکر دیتے، اور وہ برابر ان کو پڑھتی رہیں۔ اسی میں کئی سال گزر گئے۔ یہاں تک کہ ان کے گھر میں کتابوں کا ڈھیر لگ گیا۔ اب ان کے شوہر نے کہا کہ تم کب تک کتابیں پڑھتی رہوگی، اب تمہیں لکھنا چاہیے۔ اس کے بعد مارگریٹ مثل نے ایک ناول لکھنا شروع کیا۔
اس طرح انھوں نے ایک ضخیم ناول تیار کیا، جس کا نام تھا: گان ودھ دا ونڈ (Gone with the Wind)۔ یہ ایک المیہ تھا۔ اس المناک کہانی کا خاتمہ اس طرح ہوا کہ مصنفہ نے اپنی کتاب کے خاتمے پر جو الفاظ لکھے، وہ یہ تھے آخر کار کل کا دن ایک اور دن ہوگا: After all, tomorrow is another day حالات نے مارگریٹ مثل کے دل کو ایک درد مند دل بنا دیا۔ ان کے اندر گہری سوچ پیدا ہوگئی۔ وہ زندگی کے بارے میں زیادہ سنجیدگی کے ساتھ سوچنے لگیں۔ خارجی سرگرمیوں کے خاتمے کے بنا پر، ان کی داخلی سوچ بہت گہری سوچ بن گئی۔ اس کا نتیجہ مذکورہ ناول کی صورت میں برآمد ہوا۔ ان کا یہ ناول بہت زیادہ مقبول ہوا، حتیٰ کہ اس کا شمار دنیا کے ٹاپ کے ناولوں میں ہونے لگا۔ انسان کے ساتھ مصیبتیں آتی ہیں۔ لیکن انسان پتھر نہیں ہے۔ مصیبت اس کے ذہن کو متحرک کرتی ہے۔ اس کے دل کو حساس دل بنا دیتی ہے۔ وہ زیادہ سوچنے والا بن جاتا ہے۔ وہ ایک کٹ ٹو سائز انسان بن جاتا ہے۔ ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے کام کر ڈالتا ہے جو عام حالات میں وہ نہیں کر سکتا تھا۔ پہلے اگر وہ مین (man) تھا تو اب وہ سوپر مین (superman) بن جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues