Al-Risala · December 2015 · page 45

تیار ذہن

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۵

تیار ذہن

سوال و جواب کے سلسلے میں اصل اہمیت تیار ذہن (prepared mind) کی ہے۔ ماہنامہ الرسالہ اپنے قاری کے اندر یہی تیار ذہن بناتا ہے، اور جب ذہن تیار ہو جائے تو اس کے بعد آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ آسانی کے ساتھ وہ خود ہر سوال کا جواب معلوم کر سکے۔ کوئی شخص اپنے سوال کا جواب اس طرح معلوم یں کر سکتا کہ وہ ایک عالم سے سوال کرے، اور وہ عالم اس کو اس کے سوال کا جواب دے دے۔ بلکہ ضروری ہے کہ سائل اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے۔ وہ مطالعہ کرے، غور و فکر کرے، اور متعلق معلومات حاصل کرے ۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے گا۔ وہ اس قابل ہو جائے گا کہ جواب دینے والا جب اس کے سوال کا جواب دے تو وہ اس کے جواب کو بھر پور طور پر سمجھ لے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جواب اپنے آپ میں ادھورا ہے۔ سائل اگر تیار ذہن نہ ہو تو وہ جواب کی کمی کو اپنی طرف سے پورا کر لیتا ہے، اور پھر وہ جواب اس کے لیے ایک اطمینان بخش جواب بن جاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ ہر سوال کے بہت سے گوشے ہوتے ہیں۔ کوئی جواب ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ سوال کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر لے۔ یہی وجہ ہے کہ سائل کو عام طور پر ایک جواب سے تشفی نہیں ہوتی۔ جواب سننے کے بعد، سائل کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کو اپنے سوال کا جواب نہیں ملا۔ اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ سائل اپنے سوال کو مکمل بنانے کی کوشش کرے، یا جواب دینے والا اپنے جواب کو اتنا مفصل بنائے کہ وہ ہر پہلو کا احاطہ کر لے۔ یہ ایک ناقابل عمل بات ہے۔ قابلِ عمل بات صرف یہ ہے کہ سائل، سوال کرنے سے پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرے۔ وہ جواب کی کمی خود پورا کرے، نہ کہ جواب دینے والے سے ایسی امید رکھے جو عملاً پوری ہونے والی نہیں۔ یہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues

Printed page