تیار ذہن
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۷
اور مسلم میڈیا کے سامنے پیش کروں گا۔ اس لیے آپ اس معاملے کو فوری طور پر حل کریں ، اور مجھے اس سے مطلع فرمائیں۔ (شیخ آصف، بلڈانہ، مہاراشٹر)
جواب
عربی زبان میں کَانَ‘ کا لفظ وسیع معنی میں آتا ہے۔ کبھی ماضی کے معنی میں ، جیسے وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ (27:48)، اور کبھی حال کے معنی میں، جیسے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (3:110)، اور کبھی مستقبل کے معنی میں، جیسے مَا كَانَ لَكُمْ أَن تُنْبِتُوا شَجَرَهَا (27:60)۔ تاہم ترجمہ کے اس فرق سے معنی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ چنانچہ قرآن کے اردو مترجمین نے دونوں ترجمے کیے ہیں۔ ہے کا ترجمہ بھی، اور تھا کا ترجمہ بھی۔ مثلاً قرآن کی آیت لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (33:21) میں دونوں قسم کے ترجمے کیے گئے ہیں۔ شاہ رفیع الدین صاحب نے اس آیت میں کَانَ کا ترجمہ ہے کے ساتھ کیا ہے اور شاہ عبدالقادر صاحب اور مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے اس آیت میں کَانَ کا ترجمہ تھا کے ساتھ کیا ہے۔
آپ سے گزارش ہے کہ اس طرح کا سوال کرنے میں کبھی جلدی نہ کریں کیوں کہ حدیث میں آیا ہے: العجلة من الشيطان ۔ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 4058) اس معاملے میں آپ کو چاہیے تھا کہ آپ پہلے لغات اور تراجم کو دیکھ کر تحقیق کرتے۔ پھر اس کے بعد اپنا خط تحریر فرماتے۔ سوال و جواب کا یہ طریقہ احتیاط کے خلاف ہے۔
اسی طرح اس خط میں درج ہے کہ آپ کی تحریر میں یہ تضاد آپ کے ایمان پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ “ یہ جملہ لکھنے سے پہلے آپ کو اس حدیث پر غور کرنا چاہیے تھا جس میں آیا ہے: لا يرمي رجل رجلا بالفسق، ولا يرميه بالكفر إلا ارتدت عليه إن لم يكن صاحبه كذلك (مسند احمد، حدیث نمبر (21571) ایک شخص جب بھی کسی پر دوسرے شخص پر فسق کا الزام لگاتا ہے، یا اس پر کفر کا الزام لگاتا ہے تو ضرور وہ خود اس کی طرف لوٹ آتا ہے، اگر دوسرا شخص ایسا نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues