تیار ذہن
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۶
سوال و جواب سوال میں ماہنامہ الرسالہ کا ایک پابند قاری ہوں۔ آپ کی تحریر ذہن کو کسی حد تک متاثر ضرور کرتی ہے۔ لیکن آپ کے متعلق میں تذبذب کا شکار ہوگیا ہوں۔ کیوں کہ آپ کی تصانیف میں تضاد ہے۔ آپ نے ماہنامہ الرسالہ شمارہ نمبر 436 (مارچ 2013) اور شمارہ نمبر 445 (دسمبر 2013) میں سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 21 کا ترجمہ اس طرح لکھا ہے: تمھارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ کا، اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرے۔ جب کہ آپ ہی کی تصنیف (اردو) ترجمہ قرآن میں اس آیت کا ترجمہ اس طرح ہے: تمھارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ تھا، اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو، اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔
الرسالہ میں آپ نے اللہ کے رسول میں نمونہ میں بہترین نمونہ ہے“ لکھا ہے، جب کہ ترجمۂ قرآن میں اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ تھا‘ لکھا ہے۔ آپ کے مطابق اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ تھا تو کیا ہمارے لیے اللہ کے رسول اب بہترین نمونہ نہیں رہے؟ اور اگر اللہ کے رسول بہترین رول ماڈل نہیں ہیں تو ہمیں کس کی پیروی کرنی چاہیے؟ یہ بہت ہی سنگین معاملہ ہے۔ الفاظ کی معمولی تبدیلی سے ایمان تبدیل ہوجاتا ہے۔ آپ کی تحریر میں یہ تضاد آپ کے ایمان پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ اگر یہ غلطی چھپائی کے دوران ہوئی ہے تو اس معاملے کی تحقیق کرکے آپ اس کتاب کی اشاعت روک دیں۔ اب تک یہ کتاب لاکھوں لوگوں کے درمیان پہنچ چکی ہے۔ آپ نے قرآن کو copyright free کیا ہے۔ اس طرح تو کوئی بھی شخص اس میں کوئی بھی تبدیلی کر کے اس کو شائع کر سکتا ہے۔ جب کہ کوئی بھی مصنف اپنی تصنیف کو copyright reserved رکھتا ہے۔ اور اگر آپ نے یہ غلطی جان بوجھ کر کی ہے تو میدان محشر میں آپ کن لوگوں کی صف میں کھڑے ہوں گے، اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ اگر آپ نے اس غلطی کی اصلاح نہیں کی تو میں اس معاملہ کو مسلم علماء
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues