داخل القلب ایمان
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۵
داخل القلب ایمان
ایمان لانے والوں کے بارے میں قرآن کا ایک بیان یہ ہے: قَالَتِ الْأَعْرَابُ اَمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُوْلُوا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ (49:14) یعنی اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، کہو کہ تم ایمان نہیں لائے۔ بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا، اور ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔
اسلام کا آغاز کلمہ ایمان کے اقرار سے شروع ہوتا ہے، مگر اللہ کے نزدیک اتنا ہی کافی نہیں۔ آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس لسانی سطح کے ایمان کو عقلی سطح کا ایمان بنائے۔ یہ گویا کلمہ گوئی کے بعد اس کی تکمیل ہے۔ اسی تکمیلی ایمان کو قرآن میں داخل القلب ایمان کہا گیا ہے۔ اس آیت میں قلب سے مراد دل (heart) نہیں بلکہ قلب سے مراد ذہن (mind) ہے۔ داخل القلب ایمان کوئی پر اسرار واقعہ نہیں، وہ مکمل معنوں میں ایک شعوری ارتقا کا معاملہ ہے۔
اصل یہ ہے کہ قبول اسلام کے بعد انسان کی زندگی میں ایک فکری عمل (intellectual process) شروع ہوتا ہے جو اس کی آخری عمر تک جاری رہتا ہے۔ وہ قرآن میں تدبر کرتا ہے، وہ سنت رسول کا مطالعہ کرتا ہے، وہ اپنے تجربہ اور مشاہدہ پر غور وفکر کرتا ہے، وہ زندگی کے تمام معاملات کا تجزیہ (analysis) کرتا ہے۔ یہ ایک مسلسل تفکیری عمل ہے، جو شعور کی سطح پر مسلسل جاری رہتا ہے۔
اس عمل کو ایک لفظ میں مومنانہ غور و فکر کا عمل کہا جاسکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک ارتقا یافتہ ذہن (developed mind) تیار ہوتا ہے۔ اس طرح آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ ہر تجربہ کو اپنے ایمان کی غذا بنالے، وہ ہر کرائسس کو مینیج (manage) کر کے اس کو بے اثر کر دے، وہ ہر منفی سوچ کو مثبت سوچ میں تبدیل کرلے، وہ ہر اختلاف پر غور کر کے اپنے اتحاد کو بدستور باقی رکھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues