ہدایت، دین حق
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۶
ہدایت، دین حق
قرآن کی سورہ التوبہ میں ایک تاریخی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ہُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۥ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (9:33)۔ یعنی اسی نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو سارے دین پر غالب کر دے، خواہ یہ شرک کرنے والوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔
قرآن کی اس آیت میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، ہدی اور دین حق۔ یہ دونوں لفظ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف پہلو ہیں۔ ہدی سے مراد خدا کا محفوظ ہدایت نامہ preserved book of guidance (divine، اور دین حق سے مراد اس حقیقت الہی کا ایک ثابت شدہ واقعہ (established fact ہونا۔
جہاں تک ہدی کا تعلق ہے، وہ نزول کے وقت ہی سے ایک محفوظ ہدایت نامہ ہے۔ اس میں اس اعتبار سے کسی اضافے کی ضرورت نہیں۔ مگر جہاں تک اس کے دوسرے پہلو کا معاملہ ہے، وہ ایک لمبے تاریخی عمل کے دوران اپنی آخری تکمیل تک پہنچے گا۔ اس عمل میں وہ لوگ بھی حصہ لیں گے، جو صاحب ایمان ہیں، اور وہ لوگ بھی بالواسطہ طور پر اس کا حصہ بنیں گے جو ایمان کا دعوی نہیں رکھتے۔ خدائی ہدایت کے محفوظ ہونے کا معاملہ قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (15:9)۔ یعنی یہ یاد دہانی (قرآن) ہم نے اتاری، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ قرآن کے متن کی یہ حفاظت اتنی کامل صورت میں ہوئی ہے کہ اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ حفاظت اولاً حفظ (memorization) کے ذریعہ ہوئی، اس کے بعد کا غذ پر کتاب کی صورت میں ہوئی۔ اب یہ حفاظت مزید اضافہ کے ساتھ انٹرنیٹ کے ذریعہ ہو رہی ہے۔
اس معاملے کا دوسرا پہلو، یعنی ہدایت ربانی (دین حق) کا براہین و حجج کے ذریعہ آخری حد تک
‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues