قرآن کی اشاعت
الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۱۳
قرآن کی اشاعت
قرآن میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: فَذَكِّرْ اِنَّمَا اَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ (88:21-26) یعنی پس تم یاد دہکوی کرو، تم بس یاد دہانی کرنے والے ہو۔ تم ان پر داروغہ نہیں۔ مگر جس نے روگردانی کی اور انکار کیا، تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا۔ ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے۔ پھر ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا۔
اس آیت میں 'مذکّر' کا لفظ آیا ہے۔ اس کا مطلب قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ اس دوسری آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيدِ (50:45) یعنی پس تم قرآن کے ذریعہ اُس شخص کو نصیحت کرو جو میرے ڈرانے سے ڈرے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتی کام یہ ہے کہ قرآن ان لوگوں تک پہنچایا جائے ۔ عربوں کو عربی زبان میں، اور دوسری قوموں کو ان کی اپنی قابل فہم زبانوں میں۔ قرآن میں آیا ہے کہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (14:4) اور ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا اس کی مخاطب قوم کی زبان میں بھیجا۔ ابتدائی دور میں، جب کہ دعوت کا کام عربوں تک محدود تھا۔ اُس وقت عربی قرآن کو لوگوں تک پہنچانا کافی تھا۔ مگر اب جب کہ دعوت کا کام دنیا کی تمام قوموں سے متعلق ہو گیا ہے۔ اب اہلِ ایمان پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ ہر قوم کی زبان میں قرآن کا ترجمہ تیار کریں اور منظم انداز میں اِس کو تمام قوموں تک پہنچائیں۔ اب یہ کافی نہیں کہ عربی قرآن کو چھاپا جائے اور اُس کو لوگوں تک پہنچا دیا جائے۔ آج اگر مسلمان ایسا کریں کہ وہ قرآن کو آرٹ پیپر پر بہترین انداز میں چھاپیں، وہ اعلیٰ معیار کے مطابق، اس کی جلد بندی کریں، وہ سونے اور چاندی کے کام سے اُس کو خوشنما بنائیں، پھر وہ قرآن کا یہ نسخہ دوسری قوموں کو دیں تو ایسے قرآن کو لوگ صرف ایک گفٹ آئٹم سمجھیں گے، نہ کہ اپنے لیے گائیڈ بک۔ اس قسم کا خوبصورت عربی قرآن لوگوں کو دینے سے مسلمانوں کی دعوتی ذمہ داری ہرگز ادا نہیں ہو سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues