Al-Risala · February 2015 · page 12

عذر میں جینا

الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۱۲

عذر میں جینا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: نعمتان مغبون فيها كثير من الناس: الصحة والفراغ (صحيح البخاري، رقم الحديث: 6412) یعنی دو نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ دھوکے میں رہتے ہیں، وہ ہیں صحت اور فرصت۔ یعنی آدمی دنیا کے کاموں کی وجہ سے آخرت کو بھولا رہتاہے اور سوچتا ہے کہ جب صحت ہوگی تو آخرت کا کام کرلوں گا، اور جب فرصت ہوگی تب آخرت کا کام کرلوں گا۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی دنیا پسندی کی وجہ سے پہلے یہ کرتا ہے کہ وہ غیر فطری عادتوں کی بنا پر اپنی صحت خراب کر لیتا ہے، اور پھر صحت کو عذر (excuse) بنا کر یہ سوچتا رہتا ہے کہ جب صحت ٹھیک ہو جائے گی تب آخرت کا کام کرلوں گا۔ اسی طرح وہ پہلے اپنے آپ کو غیر ضروری کاموں میں مشغول کر لیتا ہے، اور پھر سوچتا رہتا ہے کہ جب فرصت ملے گی تب آخرت کا کام کرلوں گا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو غیر فطری عادتوں سے بچائے، تاکہ اُس کی صحت درست ہو۔ اسی طرح وہ غیر ضروری مشغولیتوں سے بچے، تاکہ آخرت کا کام کرنے کے لئے اُس کے پاس کافی وقت ہو۔

زندگی میں منصوبہ بندی (planning) کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اگر آدمی سوچ سمجھ کر منصوبہ بند زندگی گزارے تو فطرت کے قانون کے مطابق، اُس کی صحت بھی درست رہے گی، اور اُس کے پاس کافی وقت موجود ہوگا۔ اِس طرح اُس کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ زندگی کے معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھے، اور ایسی زندگی گزارے جو اُس کی آخرت کے لیے مفید ہو۔

جو آدمی ایسا نہ کرے اور اپنے مسائل کو لے کر عذر پیش کرتا رہے، تو وہ ایک دہری غلطی میں مبتلا ہے۔ غلط انداز میں زندگی گزارنا اور پھر اُس کو درست ثابت کرنے کے لیے عذرات پیش کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues

Printed page