Al-Risala · February 2015 · page 18

کلام کی دو قسمیں

الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۱۸

کلام کی دو قسمیں

قرآن کے مطابق کلام کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے قول بلیغ (4:63) اور دوسری قسم وہ ہے جس کو قرآن میں قول مُعْجَب (2:204) کہا گیا ہے۔

قول بلیغ سے مراد وہ کلام ہے، جو آدمی کے ذہن کو ایڈریس (address) کرنے والا ہو، جوآدمی کو نئی سوچ میں ڈال دے۔ قول مُعْجَب سے مراد وہ کلام ہے، جس کو سن کر آدمی کہہ اٹھے ونڈر فل اسپیچ (wonderful speech)۔ لوگ اس کے کلام کی خوب تعریف کریں، لیکن اس کی وجہ سے ان کی زندگیوں میں کوئی انقلاب نہ آئے۔

جو شخص قول بلیغ کی زبان میں کلام کرے، اس کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا نہیں ہوتی، اس کو عمومی مقبولیت حاصل نہیں ہوتی۔ البتہ ایسا ہوتا ہے کہ جو افراد سنجیدہ ذہن رکھتے ہوں، جو سچائی کے متلاشی ہوں، ایسے افراد کو قول بلیغ سے اپنے لئے غذا ملتی ہے، ان کی غفلت ٹوٹتی ہے، ان کے اندر نیا تفکیری عمل (thinking process) شروع ہو جاتا ہے، وہ چیزوں پر از سرِ نو غور کرنے لگتے ہیں، ان کا رائے قائم کرنے کا طریقہ بدل جاتا ہے۔ اب تک اگر وہ اپنی ذات کے لئے جی رہے تھے تو اب وہ حق کے لئے جینے والے بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر ایک نیا مزاج ڈیولپ ہوتا ہے جس میں بولنا کم ہوتا ہے اور سوچنا زیادہ۔ دوسرے پر تنقید کم ہوتی ہے اور اپنی اصلاح کے بارے میں فکر کرنا زیادہ۔ قول مُعْجَب کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ قول مُعجب کا معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک لفظی مہارت کا معاملہ ہوتا ہے۔ ایسے افراد عوام پسند بولی بولنے کے ماہر ہوتے ہیں، ان کی باتیں سن کر لوگ تالیاں بجاتے ہیں، لوگوں کے درمیان ان کا خوب چرچا ہوتا ہے، لیکن حقیقی نتیجہ کے اعتبار سے دیکھئے تو آپ کو ظاہری بھیڑ کے درمیان معنوی سناٹا نظر آئے گا۔ قولِ معجب کی تعریفیں تو خوب ہوں گی لیکن برسوں کے ہنگامے کے باوجود وہاں کوئی ایک فرد بھی ایسا نظر نہ آئے گا جس کے اندر کوئی حقیقی تبدیلی آئی ہو ۔ قول بلیغ سے محاسبہ خویش پیدا ہوتا ہے، اور قول مُعْجَب سے صرف قصیدہ خوانی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues

Printed page