Al-Risala · February 2015 · page 19

امانت، خیانت

الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۱۹

امانت، خیانت

قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا اَمَانَاتِكُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (8:27) یعنی اے ایمان والو، خیانت نہ کرو اللہ اور رسول کی اور خیانت نہ کرو اپنی امانتوں میں حالانکہ تم جانتے ہو۔ قرآن کی یہ آیت اہل ایمان کے لئے ایک بنیادی حکم کی حیثیت رکھتی ہے۔

خیانت کا لفظ امانت کی ضد ہے۔ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے امانت کا مطلب آنسٹ (honesty) ہے، اور خیانت کا مطلب ڈس آنسٹ (dishonesty)۔ با اصول انسان کی سب سے بڑی صفت آنسٹی ہے، اور بے اصول انسان کی سب سے بڑی صفت ڈس آنسٹی۔ یہ دو الفاظ کسی انسان کی پوری زندگی کا خلاصہ ہیں۔ حقیقی معنوں میں انسان وہی ہے جو اپنے کیریکٹر کے اعتبار سے ایک آنسٹ انسان (honest man) ہو۔ اس کے مقابلے میں وہ انسان ایک غیر انسان ہے، جو اپنے کیریکٹر کے اعتبار سے ایک ڈس آنسٹ انسان ہو۔

آنسٹ انسان کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ ایک قابل پیشین گوئی کیریکٹر (predictable character) کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں کوئی شخص پیشگی طور پر یہ جان سکتا ہے کہ وہ اپنے قول اور اپنے عمل کے اعتبار سے کیسا انسان ہے، وہ ایک قابلِ اعتماد انسان ہے یا ایک نا قابلِ اعتماد انسان۔

اس کے مقابلے میں ڈس آنسٹ انسان اپنی صفات کے اعتبار سے اس کے برعکس انسان ہوتا ہے۔ اس کے قول وفعل کے بارے میں کوئی پیشگی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ جب اس سے کوئی معاملہ پیش آئے گا تو وہ کس قسم کا انسان ثابت ہوگا۔ وہ اپنے کردار کے اعتبار سے ایک بے اصول انسان ہوتا ہے، اللہ کی نسبت سے بھی اور انسان کی نسبت سے بھی۔ وہ اپنے ظاہر کے اعتبار سے انسان ہوتا ہے لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے غیر انسان۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues

Printed page