Al-Risala · February 2015 · page 21

تقابل کی غلطی

الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۲۱

تقابل کی غلطی

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیس لابن آدم حق في سوى هذه الخصال بيت يسكنه وثوب يواري عورته وجلف الخبز والماء (الترمذي، رقم الحديث: 2341) یعنی اس دنیا میں انسان کا حق صرف چند ہے۔ ایک گھر جس میں وہ رہے اور ایک کپڑا جو اُس کی ستر پوشی کرے اور روٹی کا ایک ٹکڑا اور پانی۔ یہ حدیث رسول بتاتی ہے کہ دنیا میں سامانِ حیات کا معیار کیا ہے، یعنی حقیقی ضرورت کے اعتبار سے وہ کیا چیز ہے جو اگر انسان کو مل جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو کافی سمجھے۔ اگر یہ معیار آدمی کے ذہن میں نہ رہے، اس کے برعکس آدمی کا معیار یہ ہو کہ اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے پاس ایک عالی شان محل (palace) ہو تو وہ بقدّرِ ضرورت گھر پر قانع نہ ہوگا، وہ اپنی ساری توجہ محل کو حاصل کرنے میں لگا دے گا، محل کے بغیر وہ اپنے آپ کو بے گھر (homeless) سمجھتا رہے گا۔

یہی معاملہ قوم کا ہے۔ اگر کوئی قوم بطورِ خود یہ سمجھ لے کہ اس کی قومی زندگی کے لیے سیاسی اقتدار لازمی طور پر ضروری ہے تو اس کو سیاسی اقتدار سے کم درجے کی چیز بے حقیقت معلوم ہوگی۔ ایسی قوم کو سیاسی اقتدار سے باہر ہزاروں چیزیں حاصل ہوں گی، لیکن ایسی قوم کے لوگ اقتدار سے محرومی کے غم میں پڑے رہیں گے، حتی کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اس مفروضہ معیار کے حصول کے لیے ناکام لڑائی شروع کردیں اور نتیجہ اپنی تباہی میں کچھ اور اضافہ کرلیں۔

موجودہ زمانہ میں مسلمان عام طور پر احساسِ محرومی کا شکار ہیں۔ حالانکہ یہ دور وہ تھا جب کہ وہ احساسِ یافت میں جینے والے ہوں اور زیادہ سے زیادہ اللہ کا شکر کریں۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت کا واحد سبب یہ ہے کہ انھوں نے بطورِ خود اسلام کا غلط معیار بنارکھا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو، تب اسلام زندہ ہے، ورنہ اسلام زندہ نہیں۔ اس جوش میں وہ اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آج بھی پچاس سے زیادہ ملکوں میں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار ہے، لیکن ان کو یہ کھلی حقیقت نظر نہیں آتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues

Printed page