اعتقادی کاملیت، عملی رخصت
الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۲۷
اعتقادی کاملیت، عملی رخصت
انسان کی زندگی کے دو پہلو ہیں، ایک ذہنی اور دوسرا عملی۔ ایک انسان کی ذہنی زندگی (intellectual life) اور دوسری عملی زندگی (practical life)۔ دونوں اگرچہ انسانی زندگی کا حصہ ہیں، مگر دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ذہنی اور فکری اعتبار سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اندر معیاری سوچ پیدا کرے۔ وہ چیزوں کے بارے میں معیار کے اعتبار سے رائے قائم کرے_ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ذہنی اور فکری اعتبار سے انسان سے اعلیٰ معیار مطلوب ہے، اس معاملہ میں اعلیٰ معیار سے کم تر کوئی حالت اللہ کے یہاں قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ اس سلسلہ کی ایک رہنما آیت یہ ہے: اِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيدًا (4:116) یعنی بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اُس کا شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے سوا کو بخش دے گا جس کے لیے چاہے گا۔ اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ بہک کر بہت دور جا پڑا_ اس آیت میں شرک سے مراد صرف بت پرستی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اللہ کے سوا کسی بھی اعتبار سے کسی کو اپنا کُنسرن (concern) بنانا۔
انسانی زندگی کا دوسرا پہلو وہ ہے، جس کو عملی پہلو کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے، جس میں ہمیشہ کامل معیار پر قائم رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لئے عملی معاملہ میں رخصت (concession) کا امکان رکھا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے: قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (39:53) یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔ قرآن کی اس آیت میں ذنب سے مراد عملی کوتاہی ہے۔ اگر کوئی انسان اعتقادی اعتبار سے کامل ہو تو اس کا امکان ہے کہ عملی اعتبار سے اس کا عذر قبول کرتے ہوئے اس کو معاف کر دیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues