Al-Risala · February 2015 · page 30

اٹلی اور اسپین کا دعوتی سفر

الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۰

اطالین ترجمے کی اشاعت کی اجازت نہ مل سکی۔

تاہم میلان کے اس سفر کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ یہاں کے ایک اسلامک سنٹر (مریم مسجد) کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس سنٹر کی مسجد میں ایک عرب مسٹر ابراہیم امام ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مسجد کے مختلف شعبے دکھائے۔ میں نے کہا کہ میں اطالوی زبان میں قرآن کا ترجمہ کرانا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں ایک مقامی خاتون مترجم عائشہ روڈولفی (Aicha Rodolfi) ہیں۔ اگر آپ اُن سے رابطہ کریں تو شاید اس سلسلے میں وہ آپ کی رہنمائی کرسکیں۔ چناں چہ میں نے محترمہ عائشہ روڈولفی سے رابطہ کر کے اُن سے ملاقات کی ۔ ان سے ملنے کے لئے میں اٹلی کے دوسرے شہر (Castelfranco Emilia) گیا۔ وہ ایک نومسلم خاتون ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے وہ ایک فیشن ماڈل تھیں۔ بعد کو وہ قرآن کی تعلیمات سے متاثر ہوئیں اور انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد ان کی والدہ نے بھی اسلام قبول کر لیا۔

عائشہ روڈولفی کے گھر پر ان کی والدہ اور مسٹر حسین سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ یہ لوگ یہاں بڑے پیمانے پر دعوہ ورک کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اسٹریٹ دعوہ (Street Dawah) کے طریقے پر دعوت کا کام کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ خاص طور پر تعارفِ اسلام کے موضوع پر سعودی عرب سے چھپے ہوئے پمفلٹس لوگوں کو دیتے ہیں۔ عائشہ روڈولفی نے بتایا کہ ان پمفلٹس میں عام طور پر شرک و بدعات، توحید اور حلال و حرام کی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ تاہم ان کتابوں کا اسلوب یہاں کی جدید نسل کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا۔ انھوں نے کہا کہ اگر اس سے بہتر اسلوب میں کوئی لٹریچر ہم کو مل جائے تو ہم اس کو پھیلائیں گے۔ عائشہ روڈولفی کو میں نے اپنے یہاں کی چھپی ہوئی کتابیں ۔ ترجمہ قرآن، پمفلٹس، وغیرہ دکھائیں۔ انھوں نے اس کو دیکھا اور پسند کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس لٹریچر کا ہم اطالوی زبان میں ترجمہ کریں گے۔ آپ اس کو انڈیا سے شائع کر کے ہمیں بھیج دیں، تاکہ ہم یہاں بڑے پیمانے پر لوگوں تک اس کو پہنچا سکیں۔ میں نے کہا ضرور، آپ اس کا ترجمہ کریں، یہی ہمارا اصل مقصد ہے۔ انھوں

‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues

Printed page