Al-Risala · February 2015 · page 32

Davide Piccardo

الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۲

نے کہا کہ ان شاء اللہ ہم اسٹریٹ دعوہ کے تحت اٹلی کے ہر شہر میں اس لٹریچر کو پھیلانے کی کوشش کریں گے۔

اٹلی سے روانہ ہو کر 3 نومبر 2014 کو مجھے اسپین جانا تھا۔ اسپین کا سفر بھی دراصل قرآن کے اسپینی ترجمے کی اشاعت کے لیے تھا۔ اس کا اصل محرک یہ تھا کہ خواجہ کلیم الدین صاحب (امریكا) کافی عرصے سے مجھ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکا میں، خاص طور پر ساؤتھ امریکا کے ملکوں میں قرآن کے اسپینش ترجمے کی بہت ضرورت ہے، کیوں کہ اسپین کے علاوہ ساؤتھ امریکا کے ملکوں میں بھی اسپینش زبان بولی جاتی ہے۔ مثلاً میکسکو، ارجنٹائنا، کولمبیا، پناما، کیوبا، چلی، پیرو، وینز ولا، وغیرہ میں عام طور پر اسپینش (Spanish) زبان بولی جاتی ہے۔ کلیم الدین صاحب کا کہنا تھا کہ اگر اسپینش زبان میں قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر تیار ہو جائے تو ساؤتھ امریکا میں بڑے پیمانے پر اس کے ذریعے دعوہ ورک کیا جا سکتا ہے۔

جب میں نے اس سلسلے میں جاننا چاہا تو معلوم ہوا کہ اسپینش زبان میں قرآن کے چار ترجمے موجود ہیں۔ ان میں سب سے معروف ترجمہ وہ ہے جس کو غرناطہ (Granada) کے مسٹر عبد الغنی (Abdul Ghani Melara Navio) نے تیار کیا ہے۔ یہ ترجمہ شاہ فہد قرآن کاپلیکس، مدینہ سے بھی شائع ہو چکا ہے۔ کافی تلاش کے بعد غرناطہ کے مسٹر لقمان نیٹو (Luqman Nieto) کے ذریعے مترجم موصوف کا نمبر معلوم ہوا۔ چناں چہ ان سے ملاقات کے لیے میں نے غرناطہ جانے کا ارادہ کر لیا۔ چنانچہ پہلے میں اٹلی سے اسپین کے شہر مالقہ (Malaga) گیا۔ یہ غرناطہ سے قریب ایک تاریخی شہر ہے۔ یہاں انٹر نیشنل ائر پورٹ بھی ہے۔ مالقہ بھی اسلامی سلطنت کا حصہ تھا، اس لئے یہاں مسلم دور کی کافی عمارتیں موجود ہیں۔ مالقہ سے غرناطہ کے لئے ائر پورٹ سے ڈائریکٹ بس جاتی ہے۔ چناں چہ میں یہاں سے بذریعہ بس تقریباً ڈھائی گھنٹے میں غرناطہ پہنچ گیا۔ سفر کے دوران ہر طرف خوب صورت مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ دریا، پہاڑ، سبزہ، وغیرہ۔ یہاں کی مٹی سرخ رنگ کی تھی۔ اس میں ہر طرف دور تک پھیلے ہوئے زیتون کے سر سبز و شاداب باغات ایک عجیب منظر پیش کر رہے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues

Printed page