Davide Piccardo
الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۳
غرناطہ پہنچ کر میں نے مسٹر عبدالغنی کو فون کیا۔ وہ میرے ہوٹل کے قریب ہی رہتے ہیں۔ چنانچہ بیس منٹ کے اندر وہ ہوٹل پہنچ گئے۔ تقریباً دو گھنٹے کی گفتگو کے بعد وہ اپنا لیپ ٹاپ لے کر آئے اور اُس پر مختلف چیزیں مجھ کو دکھانے لگے۔ مثلاً انھوں نے اپنے اسپینش ترجمہ قرآن پر تفسیری نوٹس لکھے ہیں، وہ انھوں نے مجھے دکھائے۔ مسٹر عبدالغنی عربی زبان و ادب کے اچھے اسکالر ہیں۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 70 سال ہو چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ غرناطہ کے ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئے۔ تاہم اللہ کی توفیق سے 1979 میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے بتایا کہ 1970 کے زمانے میں یہاں مراکو سے ایک مسلم صوفی آئے تھے۔ اُن کی دعوت و تبلیغ سے متاثر ہو کر بڑی تعداد میں یہاں کے مسیحی لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ میں بھی انھیں لوگوں میں سے ایک ہوں جو اُس وقت مذکورہ صوفی کی دعوت سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوئے تھے۔
دیر تک اُن سے امن اور جہاد وغیرہ کے موضوع پر بات ہوتی رہی۔ گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ ہماری امن اور جہاد کی آئیڈیالوجی سے اتفاق نہیں رکھتے۔ گفتگو کے دوران ایک بات انھوں نے یہ کہی کہ قرآن کو مفت نہیں دینا چاہئے۔ اس سے قرآن کی اہمیت لوگوں کی نظر میں کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح گفتگو کے دوران غیر مسلموں کے لیے وہ بار بار کُفار کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ میں نے کہا کہ غیر مسلموں کے لیے کفار کا لفظ استعمال کرنا درست نہیں۔ غیر مسلم ہمارے مدعو ہیں۔ میں نے کہا کہ ہم بھی انسان ہیں اور وہ بھی انسان۔ اس اعتبار سے اُن کے لیے کفار کے بجائے مدعو کا لفظ استعمال کرنا درست ہوگا۔ میں نے ان سے اپنے یہاں سے قرآن کے اسپینش ترجمے کی اشاعت کی اجازت مانگی، اور اس کے لئے بطور رائلٹی ان کو ایک خطیر رقم کی پیش کش بھی کی، مگر وہ اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔
آخر میں میں نے اُن کو اپنے یہاں کا چھپا ہوا دعوتی لٹریچر دیا۔ مثلاً قرآن کا انگریزی ترجمہ، تذکیر القرآن (انگریزی) اور پرافٹ آف پیس، وغیرہ۔ اس کو انھوں نے شکریے کے ساتھ قبول کیا اور کہا کہ مولا نا وحید الدین خاں کا یہ ترجمہ میرے پاس پہلے سے موجود ہے۔ پچھلے سال ہم نے غرناطہ کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues