Al-Risala · January 2016 · page 12

تالیف قلب

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۲

حدیث نمبر 18928 میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ سيرة ابن هشام، مغازی الواقدی، سيرة ابن كثير، الروض الانف وغیرہ کتب سیرت میں آیا ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان تالیف قلب کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا یہ فعل خالصتاً دعوت الی اللہ کے لیے ہو۔ اس حدیث کو اگر لفظاً لیا جائے تو شاید یہ کہنا درست ہوگا کہ اگر کوئی مسلم لیڈر ہندوستانیوں سے گفت و شنید کر رہا ہو، اور اس درمیان اس کو بتایا جائے کہ ایک ہندو لیڈر اس سے ملنے کے لیے آرہا ہے۔ تو اس موقع پر مسلم لیڈر کے لیے یہ کرنا جائز ہوگا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو کہے کہ اس ہندو لیڈر کے یہاں گائے کی پوجا کی جاتی ہے، اس لیے تم اس کا اس طرح استقبال کرو کہ اس کے پاس گائے لے کر جاؤ۔ تو ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہوگا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جو نجران کے عیسائیوں کے ساتھ پیش آیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے مدینہ آئے۔ یہاں انھوں نے مدینہ کی مسجد نبوی کے اندر اپنے طریقے کے مطابق عبادت کی۔ روایت کے مطابق انھوں نے اپنی یہ عبادت مشرق کی طرف رخ کر کے کی (فصلوا إلى المشرق) سيرة ابن هشام (1/574)، جب کہ مدینہ سے کعبہ کا رخ اس سے مختلف تھا۔ ملی تعمیر کا کام سب سے پہلے ملت کے افراد میں شعور پیدا کرنے کا کام ہے۔ اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ الرسلہ مشن کو ایک ایک بستی اور ایک ایک گھر میں پہنچایا جائے۔

کیرالا میں الرسلہ مشن کی انگلش کتابوں کے لیے رابطہ قائم فرمائیں: Goodword Books (Distributors)

Premier building, Near MEA Complex, Court Road, Calicut-673001, Kerala Ph. 08129538666

‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues

Printed page