Al-Risala · January 2016 · page 11

تالیف قلب

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۱

حکم دیتے ہوئے ایک اصول یہ دیا گیا کہ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ (74:6) یعنی اور ایسا نہ کرو کہ احسان کرو اور بہت بدلہ چاہو۔ اس حکم کا تعلق دعوت کے عمل سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کا کام اس طرح کرنا چاہیے کہ داعی کو یہ امید نہیں رکھنا چاہیے کہ مدعو کی طرف سے اس کو اچھا جواب ملے گا: Do good without expecting anything in return یہود کی تالیف کے لیے یہود کے قبلۂ عبادت کو اپنا قبلہ بنانا، بتاتا ہے کہ تالیفِ قلب کی کوئی حد نہیں ۔ اس کے لیے مومن کو ہر تدبیر اختیار کرنا جائز ہے۔ شرط اگر ہے تو صرف یہ کہ مومن کی نیت کسی ذاتی مفاد کو حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہو کہ مدعو کے دل میں اسلام کے لیے نرم گوشہ (soft corner) پیدا ہو، اور وہ کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے۔

پیغمبر اسلام کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہر ممکن طریقے سے مدعو کی تالیفِ قلب کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً کچی دور میں کعبہ کے اندر بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کر کے لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچانا، کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا بغیر احتجاج کیے ہوئے جب کہ کعبہ کے اندر 360 بت رکھے ہوئے تھے، غزوہ حنین میں آپ کو بڑی تعداد میں مال غنیمت حاصل ہوا تھا، آپ نے اس کی بڑی مقدار ان لوگوں کو دے دی جنھوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ ایسا آپ نے ان لوگوں کی تالیفِ قلب کے لیے کیا تھا۔

تالیفِ قلب کا ایک واقعہ وہ ہے جو حدیبیہ معاہدہ کی بات چیت کے دوران پیش آیا۔ حدیبیہ معاہدہ کی بات چیت تقریبا دو ہفتہ تک جاری رہی تھی۔ اس مدت میں تالیف کے مختلف واقعات پیش آئے۔ ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہوا کہ قبیلہ بنی کنانہ کا سردار الحلیس بن علقمہ قریش کی طرف سے آپ سے بات چیت کے لیے آ رہا ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا کہ یہ قبیلہ قربانی کے اونٹوں کی تعظیم کرتا ہے، وہ اس کو الہ کا درجہ دیتا ہے۔ اس لیے تم اس کے استقبال کے لیے اونٹ لے کر نکلو۔ چناں چہ صحابہ نے ایسے ہی کیا۔ وہ آدمی بہت خوش ہوا۔ اور واپس جا کر قریش کو بہت مثبت رپورٹ دی۔ یہ واقعہ صحیح البخاری حدیث نمبر 2731، اور مسند احمد،

‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues

Printed page