Al-Risala · March 2016 · page 39

تخلیقی حل

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۶، صفحہ ۳۹

تخلیقی حل

موجودہ زمانے میں کمپیوٹر کلچر اور انڈسٹری کے حلقوں میں ایک لفظ بہت استعمال ہوتا ہے، اور وہ ہے۔ تخلیقی حل (creative solution) یعنی جب کوئی نیا مسئلہ پیش آئے تو اس کے بارے میں ازسرِ نو غور کرنا، نئے انداز سے مسئلے کا حل تلاش کرنا۔ اس طرح جو حل دریافت ہوتا ہے، اس کو تخلیقی حل کہا جاتا ہے۔ تخلیقی طرزِ فکر ایک نیا ذہن دیتا ہے، جس کی روشنی میں مسئلے کا زیادہ مؤثر حل دریافت کیا جا سکے: A creative solution gives a fresh perspective to a challenging problem. تخلیقی حل کا اصول صرف کمپیوٹر کا اصول نہیں ہے، بلکہ یہ فطرت کا ایک عام اصول ہے۔ کمپیوٹر کی دنیا میں اس اصول کا سیکولر استعمال کیا گیا ہے۔ یہی اصول خود اسلام میں بھی پوری طرح مطلوب ہے۔ اسلام میں جس چیز کو اجتہاد کہا گیا ہے، اُس سے مراد یہی اصول ہے۔ خواہ مذہب کا دائرہ ہو یا سیکولر دائرہ، ہر دائرے میں بار بار اس کی ضرورت پیش آتی ہے کہ لوگ کھلے ذہن کے ساتھ از سرِ نو غور کریں ۔ وہ تعصب جیسی چیزوں سے بلند ہو کر مسئلے کا نیا اور کارگر حل تلاش کریں۔ تخلیقی ذہن (creative mind) کا مالک کون ہے، یہ وہ انسان ہے جو تعصبات (prejudices) سے خالی ہو، جو چیزوں کے بارے میں بے آمیز انداز میں سوچ سکے، جو آخری حد تک کھلا ذہن (open mind) رکھتا ہو، جو اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر خالص موضوعی (objective) انداز میں رائے قائم کر سکتا ہو۔ یہی وہ انسان ہے جو کسی معاملے میں تخلیقی حل (creative solution) تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

تعصب کا مزاج تخلیقی ذہن کا پردہ ہے اور بے تعصبی کا مزاج تخلیقی ذہن کو کھول دینے والا ہے۔ اپنے آپ کو کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے والا بنائیے، اپنی فطرت کو ہر حال میں زندہ رکھیے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کے ذہن نے مشکل ترین حالات میں بھی مسئلے کا ایک قابل عمل حل دریافت کر لیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2016 All issues

Printed page