Al-Risala · March 2016 · page 40

سکینہ کیا ہے

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۶، صفحہ ۴۰

سکینہ کیا ہے

قرآن میں حدیبیہ معاہدے کے تحت جو آیتیں آئی ہیں، اُن میں سے ایک آیت یہ ہے: ہُوَ الَّذِيْ أَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ فِيْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ لِيَزْدَادُوْا إِيْمَانًا مَّعَ إِيْمَانِهِمْ ۚ وَلِلَّهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيْمًا حَكِيْمًا (48:4) یعنی اللہ ہی ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکینہ نازل کیا تا کہ اور بڑھ جائے اُن کا ایمان اپنے ایمان کے ساتھ۔ اور اللہ ہی کے ہیں سب لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ ہے خبر دار، حکمت والا۔

سکینہ کا لفظی مطلب اطمینان (tranquillity) ہے۔ قرآن کی اس آیت میں سکینہ کا مطلب یہ ہے کہ حدیبیہ معاہدے کی شرطیں اگر چہ اصحاب رسول کی مرضی کے خلاف تھیں، لیکن اللہ کے حکم کی بنا پر وہ اُس پر راضی ہو گئے۔ اس رضا مندی کے باعث، اللہ نے اُن پر یہ خصوصی فضل کیا کہ اُن پر اپنی وہ خاص رحمت نازل فرمائی جو اُنھیں قلبی اعتبار سے اُس پر مطمئن کر دے اور جس فیصلے پر وہ بظاہر نا گواری کے ساتھ راضی ہوئے تھے، اُس کو اُن کے لیے ایک خوش گوار تجربہ بنا دے۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے ساتھ کوئی نا پسندیدہ صورت پیش آتی ہے۔ مثلاً کسی عزیز کی موت، کوئی مالی نقصان، کسی کی طرف سے بے عزتی کا معاملہ، وغیرہ۔ اس طرح کا معاملہ آدمی کے لیے ہمیشہ صدمہ (shock) کا سبب بنتا ہے۔ لیکن اگر آدمی اللہ کے حکم (البقرۃ:155) کی بنا پر صبر کر لے اور رد عمل کا اظہار نہ کرے تو اپنے اس عمل کی بنا پر وہ اللہ کی خصوصی نصرت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ یہ کہ جس چیز کو اُس نے ابتداء اپنی طبیعت پر جبر کر کے اختیار کیا تھا، اس کو اس کے لیے ایک خوش گوار واقعہ بنا دیا جائے۔

یہی مطلب ہے ’’ایمان پر ایمان کے اضافہ‘‘ کا، یعنی صبر کے معاملہ کو اطمینان کا معاملہ بنا دینا۔ مومن کے دل میں پیدا ہونے والی اسی کیفیت کو قرآن کی مذکورہ آیت میں ’ازدیاد ایمان‘ کہا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2016 All issues

Printed page