Al-Risala · March 2016 · page 41

حاضر دماغی

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۶، صفحہ ۴۱

حاضر دماغی

ایم کے گاندھی (وفات 1948) انڈیا کے مشہور پولیٹکل لیڈر تھے۔ ان کا ایک واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بار وہ ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ اسٹیشن پر جب وہ ٹرین میں سوار ہوئے تو چلتی ہوئی گاڑی میں ان کا ایک جوتا پاؤں سے نکل کر نیچے گر گیا۔ جوتا چلتی ہوئی ٹرین کے نیچے چلا گیا۔ گاندھی نے اس وقت یہ کیا کہ اپنا دوسرا جوتا بھی پاؤں سے نکال کر نیچے گرا دیا۔ کسی نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔ گاندھی نے جواب دیا کہ اب وہ جوتا میرے کام کا نہیں تھا، میں نے اس لیے گرا دیا کہ جو شخص اس کو پائے، اس کو دونوں جوتا مل جائے۔ اس طرح وہ جوتے کو اپنے لیے قابل استعمال بنا لے گا۔

جوتا جوڑے کی شکل میں کارآمد ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا کہ ایک جوتا گاندھی کے پاس رہتا، اور دوسرا جوتا کسی پانے والے کے پاس تو وہ جوتا دونوں ہی کے لیے ناقابل استعمال ہو جاتا۔ اب جوتا کم از کم ایک شخص کے کام آ جائے گا۔ اگر گاندھی دوسرے جوتے کو پاؤں سے نکال کر نہ گراتے تو وہ جوتا نہ گاندھی کے کام کا ہوتا، نہ کسی دوسرے کے کام کا۔

اس طرح کا موقع ایک بحران (crises) کا موقع ہوتا ہے۔ اکثر لوگ ایسے موقع پر پریشان ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ان کی محرومی صرف محرومی بن کر رہ جاتی ہے۔ ہر محرومی کے بعد ایک امکان باقی رہتا ہے۔ اگر آدمی حاضر دماغی سے کام لے تو وہ اس آخری موقع کو استعمال کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

حاضر دماغی (presence of mind) کا تعلق ہر معاملے سے ہے۔ چھوٹے معاملے سے بھی اور بڑے معاملے سے بھی، گھر کے معاملے سے بھی اور گھر کے باہر کے معاملے سے بھی، انفرادی معاملے سے بھی اور اجتماعی معاملے سے بھی۔ آدمی اگر حاضر دماغی سے کام لے تو وہ ہر نقصان میں فائدہ کا ایک پہلو در یافت کرلے گا، وہ ہر کھونے کو اپنے لیے ایک پا نا بنا لے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2016 All issues

Printed page