Al-Risala · April 2016 · page 6

تاریخ کا مطالعہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۶

تاریخ کا مطالعہ

قرآن کے بیان (الانبياء : 30) نیز سائنسی دریافت کے مطابق، کائنات کی تخلیق کا آغاز غالباً تیرہ بلین سال پہلے بگ بینگ سے ہوا۔ اس کے بعد مختلف ادوار پیش آئے۔ معلوم تاریخ کے مطابق سب سے پہلے مادی دنیا بنی، یعنی وہ دنیا جہاں ایک وسیع خلا کے اندر بے شمار عظیم کہکشائیں موجود ہیں۔ اس کے بعد وہ دور آیا جب کہ شمسی نظام (solar system) بنا، اور پھر ایک تدریجی عمل کے بعد زمین وجود میں آئی، جہاں انسان کے لئے وہ تمام موافق انسانی اسباب موجود ہیں، جن کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔

اس کے بعد وہ وقت آیا جب کہ انسان کی تخلیق ہوئی، اور اس کو زمین پر آباد کیا گیا۔ اس کے بعد انسانی تاریخ بننے لگی۔ پھر خدائی منصوبے کے مطابق پیغمبر آنا شروع ہوئے۔ انھوں نے کوشش کی کہ انسانی تاریخ توحید کے رخ پر سفر کرے۔ مگر عملایہ ہوا کہ صرف کچھ مستثنی افراد نے پیغمبروں کی دعوت کو مانا۔ انسانی نسلوں کا قافلہ بڑی تعداد میں آزادی کے غلط استعمال کے نتیجے میں، غیر موحدانہ راستے پر چل پڑا۔ اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ انسانی زندگی میں عملاً ملوکیت کا نظام قائم ہو گیا۔ ملوکیت اور شرک، دونوں نے مل کر ساری دنیا میں جبریت (religious persecution) کا نظام قائم کر دیا۔ اس طرح یہ ناممکن ہو گیا کہ توحید کے مشن کو پرامن طور پر چلایا جا سکے۔ اس کے بعد تقریباً چار ہزار سال پہلے پیغمبر ابراہیم کے ذریعے ایک نیا منصوبہ زیرِ عمل لایا گیا۔ اس منصوبے کو ڈیزرٹ تھراپی (desert therapy) کہا جا سکتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے عرب کے صحرائی ماحول میں دو ہزار سال سے زیادہ مدت کے دوران ایک نئی نسل تیار کی گئی، جو آج کل کی زبان میں کنڈیشننگ سے محفوظ قوم تھی۔ یہ وہی نسل ہے جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اول میں پیغمبر اسلام کا ظہور ہوا۔ انھوں نے اس نسل کے منتخب افراد کے ذریعے ایک جاندار ٹیم تیار کی۔ اس ٹیم نے ایک انقلابی کام انجام دیا۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page